Surah Yunus Ayat 58 (10:58)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل بفضل الله و برحمته فبذلك فلیفرحوا:تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔} کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کو ’’فرح ‘‘کہتے ہیں اور ایت کے معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ عزوجل کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں نصیحتیں سینوں کی شفاء اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمایا۔ اللہ تعالی کے فضل اور رحمت سے کیا مراد ہے اس ایت میں اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ اللہ عزوجل کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے فضل سے قرآن اور رحمت سے ا حادیث مراد ہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵۸ ۲ / ۳۲۰) بعض علماء نے فرمایا کہ اللہ عزوجل کا فضل حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اور اللہ عزوجل کی رحمت قران کریم۔ رب عزوجل فرماتا ہے: ’’و كان فضل الله علیك عظیما‘‘(نساء ۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔ بعض نے فرمایا :اللہ عزوجل کا فضل قران ہے اور رحمت حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’و ما ارسلنك الا رحمة للعلمین‘‘(انبیاء:۱۰۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔ اور اگر بالفرض اس ایت میں متعین طور پر فضل و رحمت سے مراد سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات مبارکہ نہ بھی ہو تو جداگانہ طور پر تواللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یقینا اللہ تعالی کا عظیم ترین فضل اور رحمت ہیں۔ لہذا فن تفسیر کے اس اصول پر کہ عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے خصوص سبب کا نہیں اس کے مطابق ہی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات مبارکہ کے حوالے سے خوشی منائی جائے گی خواہ وہ میلاد شریف کرکے ہو یا معراج شریف منانے کے ذریعے ہاں اگر کسی بدنصیب کیلئے یہ خوشی کامقام ہی نہیں ہے تو اس کا معاملہ جدا ہے اسے اپنے ایمان کے متعلق سوچنا چاہیے۔