Surah Yunus Ayat 59 (10:59)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًاؕ-قُلْ ﰰ للّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ :بھلا بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتاراہے تو تم نے اس میں سے خود ہی حرام اور حلال بنالیا، تم فرماؤ: کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو؟.
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔}کفار عرب چونکہ بحیرہ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ بتوں پر چھوڑے ہوئے جانوروں کو حرام سمجھتے تھے ان پر عتاب فرمانے کے لئے یہ ایت کریمہ نازل ہوئی۔(تفسیر ابن کثیر یونس تحت الایۃ: ۵۹ ۴ / ۲۳۹) کہ یہ جانور حلال ہیں انہیں حرام جاننا اللہ عزوجل پر بہتان باندھنا ہے۔ اپنی طرف سے حلال کو حرام سمجھنا اللہ تعالی پر افتراء ہے: اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام سمجھنا ممنوع اور اللہ تعالی پر افترا ء ہے۔ آج کل بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام۔ بعض سود کو حلال کہنے پر مصر ہیں اور بعض عورتوں کی بے قیدیوں اور بے پردگیوں کو مباح سمجھتے ہیں اور حلال ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر مصر ہیں جیسے محفل میلاد فاتحہ گیارہویں اور ایصال ثواب کے دیگر طریقوں کو حرام کہنے والے ۔ یہ سب اللہ عزوجل پر افتراء باندھنے کی صورتیں ہیں۔