Surah Yunus Ayat 60 (10:60)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ 60
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکرادا نہیں کرتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا گمان ہے ان کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما ظن:اور کیا خیال ہے} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ جو اللہ عزوجل پر جھوٹا بہتان باندھ رہے ہیں اور جو رزق اور خوراک اللہ تعالی نے حرام نہیں فرمائی بلکہ وہ ان کی غذاہے ا س کے حرام ہونے کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتے ہیں کیا وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ان کے اس جھوٹ پر کوئی پکڑ نہ فرمائے گا کیا ان کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالی ان سے در گزر فرمائے گا اور انہیں بخش دے گاہر گز نہیں ! بلکہ وہ انہیں جہنم میں پہنچائے گا جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیرطبری یونس تحت الایۃ: ۶۰ ۶ / ۵۷۲) {ان الله لذو فضل على الناس:بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے۔} یعنی بے شک اللہ تعالی عقل عطا فرما کر رسول بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر لوگوں پر فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں کہ اللہ تعالی کے دلائل میں غوروفکر کرنے کے لئے عقل استعمال کرتے ہیں نہ اللہ تعالی کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابوں سے سن کر نفع اٹھاتے ہیں۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۶۰ ۶ / ۲۷۲)