Surah Yunus Ayat 67 (10:67)
Jonah · Juz 11 · Makki
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ 67
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا بیشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ اور دن بنایا تمہاری آنکھیں کھولتا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{هو الذی:وہی ہے جس نے۔} ارشاد فرمایا کہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں راحت و سکون حاصل کرواور آرام کرکے دن بھر کی تھکان دور کرو اور دن کو انکھیں کھولنے والا بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنی ضروریات زندگی اور اسباب معاش فراہم کرسکو۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنیں اور سمجھیں کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۶۷ ۲ / ۳۲۴-۳۲۵ مدارک یونس تحت الایۃ: ۶۷ ص۴۷۹ ملتقطا) رات اور دن اللہ تعالی کی عظیم نعمتیں ہیں : یاد رہے کہ رات اور دن دونوں اللہ عزوجل کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ رات کے وقت ادمی ارام کرتا ہے اور سکون حاصل کرتا ہے گزشتہ دن کی تھکاوٹ اتارتا ہے اور اگلے دن کیلئے چاق و چوبند ہوجاتا ہے اور دن کے وقت ادمی ہزاروں کام سرانجام دیتا ہے دنیا بھر کے کام کرتا ہے اوراس کے ساتھ دن کی روشنی سے بھی راحت و ارام پاتا ہے ۔ دن یا رات میں سے کوئی ایک ختم ہوجائے تو زندگی نہایت کٹھن ہوجائے ۔ اگردن ختم ہوجائے اور ہمیشہ رات ہی رہے تو زمین پر کچھ کھانے کو نہ اگ سکے گا اور سردی کی شدت بڑھتے بڑھتے انسان ہلاک ہوجائے اور اگر رات ختم ہوجائے اور ہمیشہ دن ہی رہے تو فصلیں سورج کی تمازت سے جل جائیں اور لوگوں کا راحت و ارام چھن جائے۔ الغرض رات اور دن دونوں ہی اللہ عزوجل کی نعمت ہیں اور نعمتوں کی اہمیت کا صحیح اندازہ ان ممالک میں رہنے سے ہو سکتا ہے جہاں کئی کئی مہینے دن یا کئی کئی مہینے رات رہتی ہے۔