Surah Yunus Ayat 66 (10:66)
Jonah · Juz 11 · Makki
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِؕ-وَ مَا یَتَّبِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariسن لو! بیشک اللہ ہی مالک ہے سب کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس کی پیروی کررہے ہیں ؟ وہ تو صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگا رہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسن لو بیشک اللہ ہی کی مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اور کاہے کے پیچھے جا رہے ہیں وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے۔
Tafseer (Urdu)
{الا ان لله:سن لو! بیشک سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} اس ایت سے پہلے ایت نمبر 55 میں ارشاد ہوا تھا کہ ’’ الا ان لله من فی السموت و من فی الارض‘‘ اور اس ایت میں ارشاد ہوا ’’ الا ان لله من فی السموت و من فی الارض‘‘ ان دونوں ایتوں کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ عقل والے ہوں یا بے عقل تمام جمادات نباتات حیوانات جن انسان اور فرشتے سب کا مالک اللہ عزوجل ہی ہے اور جب ہر چیز اس کی مملوک ہے تو ان میں سے کوئی معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس دلیل کی بنا پر ان کی عبادت کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگارہے ہیں اور بے دلیل محض گمان فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اس لئے اللہ تعالی کے سوا ہر ایک کی پرستش باطل ہے۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۶۶ ۶ / ۲۷۹ ملخصا)یہ تو حید کی ایک عمدہ دلیل ہے اوراس کے بعد اللہ تعالی اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے۔