Surah Yunus Ayat 76 (10:76)
Jonah · Juz 11 · Makki
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ 76
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے : بیشک یہ کھلا جادو ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآءهم الحق:تو جب ان کے پاس حق آیا۔} یعنی جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے فرعون اورا س کی قوم کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے حق ایااور فرعونیوں نے پہچان لیا کہ یہ حق ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو براہ نفسانیت کہنے لگے کہ بیشک یہ کھلا جادو ہے حالانکہ انہیں علم تھا کہ جادو کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۷۶ ۲ / ۳۲۷ مدارک یونس تحت الایۃ: ۷۶ ص۴۸۱ ملتقطا) حق معلوم ہونے کے بعد قبول نہ کرنا فرعونیوں کا طریقہ ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ حق بات معلوم ہوجانے کے بعد نفسانیت کی وجہ سے اسے قبول نہ کرنا اور اس کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو دوسروں کے دلوں میں حق بات کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دیں فرعونیوں کا طریقہ ہے اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو حق جان لینے کے باوجود صرف اپنی ضد اور انا کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے اور اس کے بارے میں دوسرو ں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے یوں لگتا ہے کہ ان کا عمل درست ہے اور حق بیان کرنے والا اپنی بات میں سچا نہیں ہے۔ سورہ یونس کی ایت نمبر78سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔ (1)… پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام پر بدگمانی کفر ہے۔ فرعونیوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ بد گمانی کی کہ اپ مصر کی بادشاہت چاہتے ہیں اور بادشاہت حاصل کرنے کے لئے نبوت کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ (2)… حکمرانوں کی پرانی روش یہی چلتی ارہی ہے کہ اصلاح قبول کرنے کی بجائے وہ سمجھانے والے پر جھوٹے الزام لگا کر اور اسے اقتدار کا لالچی قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اج بھی اس بات کو دیکھا جاسکتا ہے کہ غلط انداز حکمرانی پر ٹوکا جائے تو حکمران کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری حکومت ختم کرکے اپنی حکومت لانا چاہتے ہیں۔