Surah Yunus Ayat 92 (10:92)
Jonah · Juz 11 · Makki
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ 92
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآج ہم تیری لاش کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے اور بیشک لوگ ہماری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآج ہم تیری لاش کو اُترا دیں گے کہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو اور بیشک لوگ ہما ری آیتوں سے غافل ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{فالیوم ننجیك ببدنك:آج ہم تیری لاش کو بچالیں گے ۔} علماء تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو ان کی ہلاکت کی خبر دی تو بنی اسرائیل میں سے بعض کو شبہ رہا اور اس کی عظمت و ہیبت جوان کے قلوب میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا تو اللہ تعالی کے حکم سے دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچانا۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۹۲ ۲ / ۳۳۲-۳۳۳) {و ان كثیرا من الناس عن ایتنا لغفلون:اور بیشک لوگ ہما ری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں۔}اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا اور فرعون کا انجام ذکر کیا اور اس واقعے کا اختتام اس کلام پر فرمایا۔ اس میں خطاب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے تاکہ وہ اپنی امت کو دلائل سے اعراض کرنے پر ڈرائیں اور ان واقعات میں غورو فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دیں یہی ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصود ہے۔(تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۹۲ ۶ / ۲۹۸)