Surah Yunus Ayat 93 (10:93)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِۚ-فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُؕ-اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 93
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو وہ اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد۔ بیشک تمہارا رب قیامت کے دن اُن میں اُس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد بوانا بنی اسرآءیل مبوا صدق:اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی۔} یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ ٹھہرایا اور ان کے سمندر سے نکلنے اور ان کے دشمن فرعون کی ہلاکت کے بعد انہیں عزت کے مقام میں اتارا۔ ایت میں عزت کی جگہ سے یا تو ملک مصر اور فرعون و فرعونیوں کے املاک مراد ہیں یا سرزمین شام قدس اور اردن جو کہ نہایت سرسبز و شاداب اور زرخیز ملک ہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۹۳ ۲ / ۳۳۳) {فما اختلفوا حتى جآءهم العلم:تو وہ اختلاف میں نہ پڑے مگر علم انے کے بعد } یہاں علم سے مراد یا تو توریت ہے جس کے معنی میں یہودی اپس میں اختلاف کرتے تھے یا سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف آوری ہے کہ اس سے پہلے تو سب یہودی آپ کے قائل اور اپ کی نبوت پر متفق تھے اور توریت میں جو آپ کی صفات مذکور تھیں ان کو مانتے تھے لیکن تشریف آوری کے بعد اختلاف کرنے لگے کچھ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے حسدو عداوت کی وجہ سے کفر کیا ۔ ایک قول یہ ہے کہ علم سے قرآن مجید مراد ہے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۹۳ ۲ / ۳۳۳) علم اللہ تعالی کا عذاب اور حجاب بھی ہوتا ہے: اس سے معلوم ہوا کہ جس علم کے ساتھ اللہ تعالی کی توفیق اور حقیقی معرفت نہ ہووہ علم اللہ عزوجل کا عذاب اور حجاب ہے چنانچہ علم کے باوجود گمراہ ہوجانے کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے ’’و اضله الله على علم‘‘ (الجاثیہ:۲۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ نے اسے علم کے باوجودگمراہ کردیا۔ اور جو علم معرفت الہی کا ذریعہ ہو وہ رحمت ہے جیسے اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ارشاد فرمایا ’’ و قل رب زدنی علما‘‘ (طہ:۱۱۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور عرض کرو: اے میرے رب!میرے علم میں اضافہ فرما۔ {ان ربك یقضی بینهم یوم القیمة :بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہودی دنیا میں اپ کی نبوت کے معاملے میں جھگڑ رہے ہیں قیامت کے دن اپ کا رب عزوجل ان میں عملی طور پر اس طرح فیصلہ کر دے گا کہ آپ پر ایمان لانے والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور آپ کا انکار کرنے والوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۹۳ ۲ / ۳۳۳)