Surah Al Adiyat Ayat 1 (100:1)
The Courser · Juz 30 · Makki
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان گھوڑوں کی قسم جوہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanقسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی ۔
Tafseer (Urdu)
{والعدیت ضبحا: ان گھوڑوں کی قسم جوہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں ۔} اس ایت میں جن گھوڑوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی ان سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں جو جہاد میں دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے آوازیں نکلتی ہیں ۔( ابو سعود العادیات تحت الایۃ: ۱ ۵ / ۸۹۶) ایت’’ و العدیت ضبحا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے کیا پیارے نکتے بیان فرمائے کہ ایت سے معلوم ہوا (1)… غازیوں کی شان بہت اعلی ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے گھوڑوں کی قسم ارشاد فرمائی۔ (2)… جب غازی کے گھوڑے نے اپنی پشت پر غازی کو لیا تو اس گھوڑے کی شان اونچی ہو گئی تو جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ہجرت کی رات سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو اپنے کندھے پر لیا حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو صہباء کے مقام میں اپنے زانو پر سلایا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے وصال کے وقت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا سر مبارک اپنے سینہ پر لیا بلکہ وہ امنہ خاتون اور حلیمہ دائی جنہوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اپنی گودوں میں کھلایا ان کی کیا شان ہو گی۔ (3)…یہ کہ جب غازی کے گھوڑے کی سانس برکت والی ہے کہ اس کی قسم ارشاد ہوئی تو ذاکر کی سانس بھی برکت والی ہے جس سے شفا ہوتی ہے۔ {فالموریت قدحا: پھر سم مارکرپتھروں سے چنگاریاں نکالنے والوں کی ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کے سموں کی رگڑ سے اگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔( تفسیر کبیر العادیات تحت الایۃ: ۲ ۱۱ / ۲۵۹) مقبولوں سے دور کی نسبت بھی عزت کا سبب ہے: یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ غازی کے گھوڑے کے سم سے اس پتھر اور شعلے کو نسبت ہوئی تویہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اتنا پیارا ہو گیا کہ اللہ تعالی نے اس کا بھی قسم میں ذکر فرمایا اس سے معلوم ہو اکہ مقبولوں سے دور کی نسبت بھی عزت کا سبب ہے۔