Surah Al Adiyat Ayat 3 (100:3)
The Courser · Juz 30 · Makki
فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر صبح کے وقت غارت کردینے والوں کی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فالمغیرت صبحا: پھر صبح کے وقت غارت کردینے والوں کی۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان گھوڑوں کی قسم جو صبح کے وقت اسلام کے دشمنوں پر حملہ کردیتے ہیں پھر اس وقت دوڑتے ہوئے غبار اڑاتے ہیں پھراسی وقت دشمن کے لشکر میں بے خوف گھس جاتے ہیں ۔ مجاہدین جب اسلام کے کسی دشمن پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتے تو رات بھر سفر کرتے اور صبح کے وقت حملہ کر دیتے اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ رات کے وقت اندھیرے میں ہونے کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے اورجس وقت وہ حملہ کرتے اس وقت لوگ غافل اور جنگ کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔( تفسیرکبیرالعادیاتتحت الایۃ:۳۱۱ / ۲۶۰ قرطبیالعادیاتتحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۱۱۴ الجزء العشرون ملتقطا) سورہ عادیات کی ایت نمبر3تا 5سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے چند باتیں معلوم ہوئیں (1) …صبح کے وقت عموما جہاد با برکت ہے بلکہ اس وقت کئے جانے والے ہر دینی اور دنیوی کام میں برکت ہوتی ہے۔ (2)…جہاد کے وقت گھوڑوں کے دوڑنے سے جوغبار اڑتا ہے وہ بھی اللہ تعالی کو پیارا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کی راہ میں اڑنے والا غبار ہے۔ (3)…دشمن کے لشکر میں بے خوف گھس جانا بھی اللہ تعالی کو پیارا ہے۔