Surah Al Qariah Ayat 1 (101:1)
The Calamity · Juz 30 · Makki
اَلْقَارِعَةُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ دل دہلادینے والی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanدل دہلانے والی۔
Tafseer (Urdu)
{القارعة: وہ دل دہلادینے والی۔} قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ہولناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت اسرافیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارعہ ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ جب وہ صور میں پھونک ماریں گے تو ان کی پھونک کی اواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن القارعۃ تحت الایۃ:۱ ۴ / ۴۰۳) {و ما ادرىك ما القارعة: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے} علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اپ قیامت کی ہولناکی شدت اور دہشت کو ہماری طرف سے انے والی وحی کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں ۔تو یہاں وحی کے بغیر قیامت کی ہولناکی کے علم کی نفی ہے(نہ کہ مطلق علم کی نفی ہے)۔( صاوی القارعۃ تحت الایۃ: ۳ ۶ / ۲۴۱۳)