Surah At Takasur Ayat 1 (102:1)
The Rivalry in world increase · Juz 30 · Makki
اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariزیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے ۔
Tafseer (Urdu)
{الهىكم التكاثر: زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا۔} ارشاد فرمایا کہ زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے اور اپنے مال اور اولادپر فخر کرنے نے تمہیں اللہ تعالی کی عبادات سے غافل کردیا ۔(جلالین التکاثر تحت الایۃ: ۱ ص۵۰۵) کثرت مال کی حرص کی مذمت: اس سے معلوم ہوا کہ کثرت مال کی حرص اور اس پر اور اولاد پرفخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اخروی سعادتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’اعلموا انما الحیوة الدنیا لعب و لهو و زینة و تفاخر بینكم و تكاثر فی الاموال و الاولاد-كمثل غیث اعجب الكفار نباته ثم یهیج فترىه مصفرا ثم یكون حطاما-و فی الاخرة عذاب شدید-و مغفرة من الله و رضوان-و ما الحیوة الدنیا الا متاع الغرور‘‘(حدید:۲۰) ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل کود اورزینت اور اپس میں فخرو غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ہے)جیسے وہ بارش جس کا اگایاہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ یایها الذین امنوا لا تلهكم اموالكم و لا اولادكم عن ذكر الله-و من یفعل ذلك فاولىك هم الخسرون‘‘(منافقون:۹) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ یایها الذین امنوا ان من ازواجكم و اولادكم عدوا لكم فاحذروهم-و ان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان الله غفور رحیم(۱۴)انما اموالكم و اولادكم فتنة-و الله عنده اجر عظیم(۱۵)فاتقوا الله ما استطعتم و اسمعوا و اطیعوا و انفقوا خیرا لانفسكم-و من یوق شح نفسه فاولىك هم المفلحون‘‘(تغابن:۱۴-۱۶) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرواور درگزرکرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک ازمائش ہی ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔تو اللہ سے ڈرو جہاں تک تم سے ہوسکے اور سنو اور حکم مانو اور راہ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اورحضرت مطرف رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااس وقت اپ’’الهىكم التكاثر‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھےاپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے فرمایا: ’’ابن ادم کہتا ہے کہ میرا مالمیرا مالاے ابن ادم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا یا صدقہ کر کے اگے بھیج دیا۔ (مسلم کتاب الزہد و الرقائق ص۱۵۸۲ الحدیث: ۳-(۲۹۵۸)) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مالمیرا مال ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں (1)جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔(2)جو ا س نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔(3)جو کسی کو دے کر(اخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے ما سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے۔( مسلم کتاب الزہد و الرقائق ص۱۵۸۲ الحدیث: ۴-(۲۹۵۹)) حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہےمجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھیپھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔( بخاری کتاب الجزیۃ و الموادعۃ باب الجزیۃ و الموادعۃ مع اہل الذمۃ و الحرب ۲ / ۳۶۳ الحدیث: ۳۱۵۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’مال و اسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ (اصل) مالداری تو دل کا غنی ہونا ہےخدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے ا س بات کا خوف ہے کہ تم کثرت مال کی ہوس میں مبتلا ہو جاو گے۔( مسند امام احمد مسند ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ۳ / ۶۴۵ الحدیث: ۱۰۹۵۸) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’ دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔( ترمذی کتاب الزہد ۴۳-باب ۴ / ۱۶۶ الحدیث: ۲۳۸۳) اللہ تعالی سب مسلمانوں کو مال کی حرص اور ہوس سے محفوظ فرمائے امین۔ {حتى زرتم المقابر: یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ } یعنی کثرت مال کی حرص تمہارے دل میں رہی یہاں تک کہ تمہیں موت ا گئی اور تم قبروں میں دفن ہو گئے۔ (خازن التکاثر تحت الایۃ: ۲ ۴ / ۴۰۴) مال اور اولاد کی حقیقت: یاد رہے جس مال کے زیادہ ہونے کی حرص کی جاتی ہے اور جس اولاد پر فخر و غرور کااظہار کیا جاتا ہے ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اس وقت تک انسان کے ساتھ رہتے ہیں جب تک ا س کے جسم میں روح باقی ہے اور جیسے ہی روح اس کے تن سے جدا ہوتی ہے اور اسے قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ مال اور اولاد اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور قبر میں اس کے ساتھ صرف اس کا عمل جاتا ہے لہذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ مال زیادہ ہونے کی حرص کرنے اور اپنی اولاد پر فخر و غرور کرنے کی بجائے نیک اعمال زیادہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ یہ قبر میں اس کے بہترین ساتھی ہوں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ان میں سے دو لوٹ اتی ہیں اور ایک(اس کے ساتھ) رہ جاتی ہے۔اس کے اہل خانہمال اور عمل ساتھ جاتے ہیں اہل خانہ اور مال لوٹ اتے ہیں اور عمل اس کے ساتھ باقی رہتا ہے۔( بخاری کتاب الرقاق باب سکرات الموت ۴ / ۲۵۰ الحدیث: ۶۵۱۴) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے دریافت فرمایا’’تم جانتے ہو کہ تمہاریتمہارے اہل و عیالمال اور اعمال کی مثال کیسی ہےصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی :اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم بہتر جانتے ہیں۔ارشاد فرمایا’’تمہاریتمہارے اہل و عیالمال اور اعمال کی مثال ا س شخص کی طرح ہے جس کے تین بھائی ہوں جب اس کی موت کاوقت قریب ائے تو وہ اپنے تینوں بھائیوں کو بلائے اور ایک سے کہے:تم میری حالت دیکھ رہے ہویہ بتاو کہ تم میرے لئے کیا کر سکتے ہووہ جواب دے:میں تمہارے لئے اتنا کر سکتا ہوں کہ فی الحال تمہاری تیمار داری کروں تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری حاجات اور ضروریات کو پورا کروں پھر جب تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہیں غسل دے کر کفن پہناوں اور لوگوں کے ساتھ مل کر تمہارا جنازہ اٹھاوں کہ کبھی میں کندھا دوں اور کبھی اور شخص جب (تمہیں دفن کر کے) واپس اوں تو جو کوئی تمہارے بارے میں پوچھے اس کے سامنے تمہاری بھلائی ہی بیان کروں ۔ یہ بھائی در حقیقت اس شخص کے اہل و عیال ہیں ۔یہ فرمانے کے بعد حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے پوچھا:اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہےانہوں نے عرض کی:ہم اس میں کوئی بھلائی نہیں پاتے۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’پھر وہ اپنے دوسرے بھائی سے کہے:تم بھی میری حالت دیکھ رہے ہوتم میرے لئے کیا کر سکتے ہوتو وہ جواب میں کہے: میں اس وقت تک تمہارا ساتھ دوں گا جب تک تم زندہ ہوجونہی تم دنیا سے رخصت ہو گئے تو ہمارے راستے جدا جدا ہو جائیں گے کیونکہ تم قبر میں پہنچ جاو گے اور میں یہیں دنیا میں رہ جاوں گا۔یہ بھائی اصل میں اس شخص کا مال ہےاس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ہم اسے بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا’’پھر وہ شخص اپنے تیسرے بھائی سے کہے:یقینا تم بھی میری حالت دیکھ رہے ہو اور تم نے میرے اہل و عیال اور مال کا جواب بھی سن لیا ہےبتاو تم میرے لئے کیا کر سکتے ہووہ اسے تسلی دیتے ہوئے کہے: میرے بھائی میں تو قبر میں بھی تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہیں وحشت سے بچاوں گا اور جب حساب کا دن ائے گا تو میں تیرے میزان میں جا بیٹھوں گا اور اسے وزن دار کر دوں گا۔یہ ا س کا عمل ہےاس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہےصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم یہ تو بہت اچھا دوست ہے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’حقیقت یہی ہے۔(کنز العمالحرف المیمکتاب الموتقسم الافعالذیل الموت۸ / ۳۱۸الجزء الخامس عشر الحدیث:۴۲۹۷۴)