Surah Al Maun Ayat 1 (107:1)
The Small kindnesses · Juz 30 · Makki
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِﭤ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{ارءیت الذی یكذب بالدین: کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے۔} شان نزول : اس ایت کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ ایت عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی وہ قیامت کے دن کا انکار کرتا تھا اور برے کام بھی کیا کرتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ ایت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئیمروی ہے کہ ابو جہل نے ایک یتیم کی پرورش کی ذمہ داری لیایک دن وہ یتیم ننگے بدن ا س کے پاس ایا اور اپنے مال میں سے کچھ طلب کیااس نے اسے دھکے دے کر نکال دیا ۔قریش کے سرداروں نے اس سے کہا کہ تم محمد(مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ) کے پاس جاو وہ تمہاری سفارش کر دیں گےاس سے ان لوگوں کا مقصد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا مذاق اڑانا تھا لیکن یتیم کو یہ چیز معلوم نہ تھیچنانچہ وہ یتیم تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اپنی فریاد پیش کی اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کبھی کسی محتاج کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھےچنانچہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اس یتیم کے ساتھ ابو جہل کے پاس گئے اس نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو دیکھ کر مرحبا کہا اور فورا یتیم کا مال اس کے حوالے کر دیا۔یہ دیکھ کر قبیلہ قریش کے لوگوں نے اسے عار دلایا اور کہا کہ تو اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ ابو جہل نے جواب دیا : خدا کی قسم!میں اپنے دین سے پھرا نہیں اصل بات یہ ہے کہ میں نے ان کی دائیں اور بائیں طرف ایک نیزہ دیکھا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے ان کی بات نہ مانی تو یہ نیزہ مجھے پھاڑ ڈالے گا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ ایت کسی خاص ادمی کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو قیامت کے دن کا انکار کرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا نیک اعمال کرنا اور ممنوعات سے رکنا ثواب میں رغبت اور عذاب کے ڈر سے ہوتا ہے تو جب وہ قیامت کا ہی منکر ہو گا تو وہ نفسانی خواہشات اور لذتوں میں سے کچھ نہ چھوڑے گا اس سے ثابت ہوا کہ قیامت کا انکارکفر اور گناہوں کی تمام اقسام کی بنیاد کی طرح ہے۔اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے انسان!کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہوجو دلائل واضح ہونے کے باوجود حساب اور جزاکا انکار کرتا ہے اگر نہیں پہچانتے تو سنو:یہ وہ شخص ہے جو اپنے کفر کی وجہ سے یتیم کو دھکے دیتاڈانٹتا اور مارتا ہے اور ا س کے ساتھ ظلم کرتے ہوئے ا س کا حق اور اس کا مال اسے نہیں دیتا اور اپنے انتہا درجے کے بخلدل کی سختی اور کمینے پن کی وجہ سے مسکین کو کھانا نہیں دیتا اور نہ ہی وہ کسی اور کویتیم کو کھانا دینے کی ترغیب دیتا ہے کیو نکہ وہ ا س عمل پر ثواب ملنے کا اعتقاد نہیں رکھتااگر وہ جزا پر ایمان لاتا اور وعید پر یقین رکھتا تو ا س سے یہ افعال صادر نہ ہوتے۔( تفسیر کبیر الماعون تحت الایۃ: ۱-۳ ۱۱ / ۳۰۱-۳۰۳ خازن الماعون تحت الایۃ: ۱-۳ ۴ / ۴۱۲ ملتقطا)