Surah Hud Ayat 104 (11:104)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍﭤ 104
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما نؤخره:اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے ۔} یعنی ہم قیامت کے دن کو اس لئے موخر کر رہے ہیں تا کہ وہ مدت پوری ہو جائے جو ہم نے دنیا باقی رہنے کے لئے مقرر فرمائی ہے۔ (مدارک ہود تحت الایۃ: ۱۰۴ ص۵۱۳) {یوم یات:جب وہ دن آئے گا۔} یعنی جب قیامت کا دن ائے گا توہر مخلوق خاموش ہوگی اس دن کوئی شخص اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر کلام نہ کر سکے گا۔ یاد رہے کہ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اوراس میں مختلف حالات ہوں گے بعض حالات میں تو ہیبت کی شدت کی وجہ سے کسی کو اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر بات زبان پر لانے کی قدرت نہ ہوگی اور بعض حالات میں اجازت دی جائے گی کہ لوگ اجازت سے کلام کریں گے اور بعض حالات میں گھبراہٹ ا ور دہشت کم ہوگی تو اس و قت لوگ اپنے معاملات میں جھگڑیں گے اور اپنے مقدمات پیش کریں گے۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۱۰۵ ۲ / ۳۷۱ ملخصا) {فمنهم شقی و سعید:تو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی خوش نصیب ہوگا۔} قیامت کے دن لوگ دو طرح کے ہوں گے (1) بدبخت۔ یہ وہ لوگ ہوں کے جن پر وعید کے مطابق جہنم واجب ہو گی۔ (2) خوش نصیب۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے لئے وعدے کے مطابق جنت واجب ہو گی۔ (روح البیان ہود تحت الایۃ: ۱۰۵ ۴ / ۱۸۷ ملخصا) سعادت اور بدبختی کی علامات: دنیا میں بھی سعادت اور بد بختی کی کئی علامات علماء نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے سعادت کی پانچ علامتیں یہ ہیں (1) دل کی نرمی۔ (2) کثرت سے انسو بہانا۔ (3) دنیا سے نفرت۔ (4) امیدوں کا چھوٹا ہونا۔ (5) حیا۔ اور بدبختی کی پانچ علامتیں یہ ہیں۔(1) دل کی سختی۔ (2) آنکھ کی خشکی یعنی انسونہ بہانا۔ (3) دنیا کی رغبت۔ (4) لمبی امیدیں۔ (5) بے حیائی۔(روح البیان ہود تحت الایۃ: ۱۰۵ ۴ / ۱۸۷ ملخصا)ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حالت پر غور کرے اگر اسے اپنے اندر سعادت کی علامات نظر ائیں تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے ان پر قائم رہنے کی بھرپور کوشش کرے اور اگر بدبختی کی علامات نظر ائیں تو اپنے بارے میں اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور ان علامات کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرے۔