Surah Hud Ayat 116 (11:116)
Hud · Juz 12 · Makki
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ 116
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتوتم سے پہلی گزری ہوئی قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع کرتے البتہ ان میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ مجرم تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیوں نہ ہوئے تم سے اگلی سنگتوں میں ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ گنہگار تھے۔
Tafseer (Urdu)
{فلو لا كان:تو کیوں نہ ہوئے۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے گزشتہ امتوں پر جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذابات نازل ہونے کا بیان فرمایا اور ا س ایت میں یہ بیان فرمایا کہ ان عذابات کے نازل ہونے کا سبب دو چیزیں تھیں۔ (1) ان میں کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں فساد سے منع کرتا۔ (2) اپنے برے اعمال یعنی شرک اور کفر وغیرہ سے رجوع نہ کرنا۔ (صاوی ہود تحت الایۃ: ۱۱۶ ۳ / ۹۳۷) ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت! تم سے پہلی امتوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا تھا وہ کچھ ایسے فضیلت والے نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے اور انہیں گناہوں سے منع کرتے اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کردیا البتہ ان سابقہ امتوں میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور وہ لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے اوران کے احکام پر عمل کرتے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے جبکہ ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ نعمتوں لذتوں خواہشات اور شہوات کے عادی ہوگئے کفر اورگناہوں میں ڈوبے رہے اور وہ مجرم تھے۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۱۱۶ ۲ / ۳۷۵ ملخصا) ’’ اولوا بقیة‘‘ سے مراد علماء ربانی ہیں مقصدیہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی عام گمراہی کا باعث یہ ہوا کہ ان میں علماء ربانی نہ رہے اگر وہ رہتے تو اس طرح گمراہی نہ پھیلتی۔ عوام اس لئے مجرم تھے کہ بدکاریاں کرتے تھے اور علماء اس لئے مجرم تھے کہ انہیں منع نہ کرتے تھے۔ اس ایت سے دو باتیں واضح ہوئیں کہ نیکی کی دعوت دینا اور گناہوں سے روکنا علماء کا منصب ہے اگر وہ یہ فریضہ سرانجام نہ دیں گے تو وہ بھی مجرم اور مستحق عذاب ہوں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ شروع سے اب تک یہی ہوتا ایا ہے کہ زیادہ تر مال و دولت والے ہی غفلت میں پڑتے ہیں اس لئے عمومی طورپر مالدار لوگوں میں دینداروں کی کمی ہوتی ہے۔