Surah Hud Ayat 38 (11:38)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ- وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُؕ-قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَﭤ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور نوح کشتی بناتے رہے اور ان کی قوم کے سرداروں میں سے جب کبھی کوئی ان کے پاس سے گزرتا تو ان کا مذاق اڑاتا۔ (نوح نے)فرمایا: اگر تم ہمارے اوپر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم بھی تم پر ایسے ہی ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و یصنع الفلك:اور نوح کشتی بناتے رہے۔} حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کشتی بناتے رہے اور ان کی قوم کے سرداروں میں سے جب کبھی کوئی ان کے پاس سے گزرتا تو ان کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ اے نوح !علیہ الصلوۃ والسلام کیا کررہے ہو آپ فرماتے’’ ایسا مکان بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے ۔یہ سن کر وہ ہنستے کیونکہ آپ کشتی جنگل میں بنا رہے تھے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا اور وہ لوگ مذاق کے طور پر یہ بھی کہتے تھے کہ پہلے تو آپ نبی تھے اب بڑھئی ہوگئے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا اگر تم ہمارے او پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم بھی تمہیں ہلاک ہوتا دیکھ کر تم پر ایسے ہی ہنسیں گے جیسے تم کشتی دیکھ کر ہنس رہے ہو۔ مروی ہے کہ یہ کشتی دو سال میں تیار ہوئی اس کی لمبائی تین سو گز چوڑائی پچاس گز اونچائی تیس گز تھی اس میں اور بھی اقوال ہیں۔ اس کشتی میں تین درجے بنائے گئے تھے۔ نیچے والے درجے میں جنگلی جانور درندے اور حشرات الارض تھے اور درمیانی درجے میں چوپائے وغیرہ اور اوپر والے درجے میں خود حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے ساتھی اور حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد مبارک جوعورتوں اور مردوں کے درمیان حائل تھا اور کھانے وغیرہ کا سامان تھا پرندے بھی اوپر والے درجہ میں ہی تھے۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۳۸ ۲ / ۳۵۱ مدارک ہود تحت الایۃ: ۳۸ ص۴۹۶ ملتقطا) {فسوف تعلمون:تو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا ۔} اس ایت میں پہلے عذاب سے دنیا میں غرق ہونے کا عذاب مراد ہے اور دوسرے عذاب سے مراد اخرت میں جہنم کا عذاب ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔( خازن ہود تحت الایۃ: ۳۹ ۲ / ۳۵۱)