Surah Hud Ayat 82 (11:82)
Hud · Juz 12 · Makki
فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ ﳔ مَّنْضُوْدٍ 82
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے اس بستی کے اوپرکے حصے کو اس کا نیچے کا حصہ کردیا اور اس پر لگاتار کنکر کے پتھر برسائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآء امرنا:پھر جب ہمارا حکم آیا۔} جب حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنی بستی سے نکلے تو انہیں حکم دیا کہ پیچھے مڑ کر کوئی نہ دیکھےسب نے اس بات پر عمل کیا لیکن اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی نے جب سنا کہ اس کی قوم پر عذاب نازل ہونے والا ہے تو اس نے پیچھے مڑ کر چیخ کر کہا ہائے میری قوم! تو اسے بھی ایک پتھر لگا اور وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہو گئی۔ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر عذاب اس طرح ایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے قوم لوط کے شہر جس طبقہ زمین میں تھے اس کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور ان پانچوں شہروں کو جن میں سب سے بڑا سدوم تھا اور ان میں چار لاکھ آدمی بستے تھے اتنا اونچا اٹھایا کہ وہاں کے کتوں اور مرغوں کی آوازیں آسمان پر پہنچنے لگیں اور اس آہستگی سے اٹھایا کہ کسی برتن کا پانی نہ گرا اور کوئی سونے والا بیدار نہ ہوا پھر اس بلندی سے اس کو اوندھا کرکے پلٹ دیا اور جو لوگ اس وقت بستی میں موجود نہ تھے وہ جہاں کہیں سفر میں تھے وہیں انہیں لگاتار پتھر برسا کر ہلاک کر دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ بستیاں الٹنے کے بعد ان ہی پر لگاتار پتھر برسائے گئے۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۸۲ ۲ / ۳۶۵)