Surah Hud Ayat 87 (11:87)
Hud · Juz 12 · Makki
قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (قوم نے) کہا: اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں ۔ واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چا ہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا یشعیب:کہا: اے شعیب!} حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے مدین والوں کو دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ (1) اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کریں اور اللہ عزوجل کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کریں۔ (2) ناپ تول میں کمی نہ کریں۔ قوم نے ان دونوں باتوں کا جو جواب حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا اس کا ذکر اس ایت میں ہے۔ پہلی بات کا انہوں نے یہ جواب دیا ’’ان نترك ما یعبد ابآؤنا ‘‘ یعنی کیا ہم ان خداوں کی عبادت کرنا چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں۔ مدین والوں کے اس جواب سے یہ ظاہر ہوا کہ ان کے پاس بت پرستی کرنے پر دلیل اپنے اباء و اجداد کی اندھی تقلید تھی اسی لئے جب حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا تو انہیں بہت عجیب لگا اور کہنے لگے کہ بتوں کی پوجا کرنے کے جس طریقے کو ہمارے پچھلے لوگوں نے اپنایا ہے ہم اسے کیسے چھوڑ دیں۔ دوسری بات کا مدین والوں نے یہ جواب دیا ’’ ان نفعل فی اموالنا ما نشؤا‘‘ یعنی کیا ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔ان کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے مال میں پورا اختیار رکھتے ہیں چاہے کم ناپیں چاہے کم تولیں۔ایت میں مذکور لفظ’’صلاۃ‘‘ سے مراد یا تو دین و ایمان ہے یا ا س سے مراد نماز ہے۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۸۷ ۶ / ۳۸۶-۳۸۷ ملخصا) {انك لانت الحلیم الرشید:تم تو بڑے عقلمند نیک چلن ہو۔} مدین والے اپنے گمان میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو بے وقوف اور جاہل سمجھتے تھے ا س لئے طنز کے طور پر انہوں نے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ تم تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہو۔ یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کنجوس ادمی کو اتے دیکھ کر کہے جناب حاتم طائی تشریف لارہے ہیں۔امام رازی فرماتے ہیں کہ ا س ایت کا معنی یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام اپنی قوم میں بڑے عقلمند اور نیک چلن ادمی کی حیثیت سے مشہور تھے لیکن جب حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو ان میں نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پوجا کے جاہلانہ طریقے کو چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے حیران ہو کر کہا کہ اپ تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہیں پھر اپ ہمیں کیسے یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اپنے نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پوجا کے طریقے کو چھوڑ دیں۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۸۷ ۶ / ۳۸۷ ملخصا)