Surah Al Falaq Ayat 1 (113:1)
The Daybreak · Juz 30 · Makki
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل اعوذ برب الفلق: تم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔}پناہ مانگنےمیں اللہ تعالی کا اس وصف’’ صبح کے رب‘‘ کے ساتھ ذکر اس لئے ہے کہ اللہ تعالی صبح پیدا کرکے رات کی تاریکی دور فرماتا ہے تو وہ ا س پر بھی قادر ہے کہ پناہ چاہنے والے سے وہ حالات دور فرما دے جن سے اسے خوف ہو نیز جس طرح تاریک رات میں آدمی صبح طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے اسی طرح خوف زدہ ادمی امن اور راحت کا منتظر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ صبح مجبور ولاچار لوگوں کی دعاؤں کا اور ان کے قبول ہونے کا وقت ہے تواس ایت سے مراد یہ ہوئی کہ جس وقت کرب اور غم والوں کو اسانیاں دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیںمیں اس وقت کو پیدا کرنے والے کی پناہ چاہتا ہوں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ’’ فلق‘‘ جہنم میں ایک وادی ہے۔ (خازن الفلق تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۴۲۹-۴۳۰) {من شر ما خلق: اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔} اس ایت میں ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے خواہ جاندار ہو یا بے جان مکلف ہو یا غیر مکلف اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مخلوق سے مراد خاص ابلیس ہے جس سے بدتر مخلوق میں کوئی نہیں۔( خازن الفلق تحت الایۃ: ۲ ۴ / ۴۳۰) {و من شر غاسق اذا وقب: اورسخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔}ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے چاند کی طرف نظر کرکے ان سے فرمایا اے عائشہ! رضی اللہ تعالی عنہا اس کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ یہ جب ڈوب جائے تواندھیراہو جاتاہے ۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المعوذتین ۵ / ۲۴۰ الحدیث: ۳۳۷۷) اس سے مراد مہینے کی آخری راتیں ہیں جب چاند چھپ جاتا ہے تو جادو کے وہ عمل جو بیمار کرنے کے لئے ہیں اسی وقت میں کئے جاتے ہیں ۔( خازن الفلق تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۴۳۰۔) {و من شر النفثت فی العقد: اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں۔} یعنی جادوگر عورتوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو ڈوروں میں گرہ لگا لگا کر ان میں جادو کے منتر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں جیسا کہ لبید کی لڑکیوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم پر جادو کرنے کیلئے کیا تھا۔( بغوی الفلق تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۵۱۷) تعویذات سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ: یاد رہے کہ ناجائز کاموں کیلئے تعویذ گنڈے ناجائز و حرام ہیں جبکہ جائز مقصد کیلئے گنڈے بنانا اور ان پر گرہ لگاناقران مجید کی ایات یااللہ تعالی کے اسماء پڑھ کر دم کرنا جائز ہے ۔جمہور صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالی عنہم اسی پر ہیں۔( خازن الفلق تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۴۲۹ملتقطا) اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے عمل مبارک اور ارشاد سے بھی یہ چیز ثابت ہے چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے اپ فرماتی ہیں کہ جب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم معوذات(یعنی سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر اس پر دم فرماتے۔( مسلم کتاب السلام باب رقیۃ المریض بالمعوذات والنفث ص۱۲۰۵ الحدیث: ۵۰(۲۱۹۲)) اورحضرت عبید بن رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹوں کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے کیا میں کچھ پڑھ کے ان پر دم کر دیاکروں ارشاد فرمایا’’ہاں کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تو نظر ضرور اس سے سبقت لے جاتی۔( ترمذی کتاب الطب باب ماجاء فی الرقیۃ من العین ۴ / ۱۳ الحدیث: ۲۰۶۶) {و من شر حاسد اذا حسد: اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔} حسد والا وہ ہے جو دوسرے کی نعمت چھن جانے کی تمنا کرے ۔یہاں حاسد سے بطور خاص یہودی مراد ہیں جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے حسد کرتے تھے یا خاص لبید بن اعصم یہودی ہے۔ (خازن الفلق تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۴۳۰) اور عمومی طور پر ہر حاسد سے پناہ کیلئے یہ ایت مبارکہ کافی ہے۔ حسد بدترین صفت ہے اور یہی سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس سے سرزد ہوا اور زمین میں قابیل سے۔ حسد کے مقابلے میں رشک ہوتا ہے اور وہ یہ ہے جس میں اپنے لئے بھی اسی نعمت کی تمنا ہوتی ہے جو دوسرے کے پاس ہے لیکن دوسرے سے چھن جانے کی تمنا اس میں نہیں ہوتی۔اس سورت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جادو اور حسد بد ترین جرائم ہیں کہ عام شروں کے بعد ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا۔