Surah Yusuf Ayat 22 (12:22)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب یوسف بھر پور جوانی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و لما بلغ اشده:اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچے۔} یعنی جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جوانی کی پوری قوت کو پہنچے اور شباب اپنی انتہا پر ایا اور عمر مبارک امام ضحاک رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے مطابق بیس سال سدی کےقول کے مطابق تیس سال اور کلبی کے قول کے مطابق اٹھارہ اور تیس کے درمیان ہوئی تو اللہ تعالی نے انہیں نبوت اور دین میں فقاہت عطا فرمائی۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس ایت میں حکم سے درست بات اور علم سے خواب کی تعبیر مراد ہے اور بعض علما نے فرمایا ہے کہ چیزوں کی حقیقتوں کو جانناعلم اور علم کے مطابق عمل کرنا حکمت ہے۔(خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۱۱-۱۲) انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا عمومی علم مبارک علم لدنی ہوتا ہے: اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو علم لدنی بخشا کہ استاد کے واسطے کے بغیر ہی علم و فقہ اور عمل صالح عنایت کیا۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا عمومی یا اکثر علم مبارک علم لدنی ہوتا ہے۔ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’و علمنه من لدنا علما‘‘ (کہف:۶۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔ اور ہمارے اقاصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں فرمایا ’’و علمك ما لم تكن تعلم‘‘ (النساء:۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان:اور اپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو اپ نہ جانتے تھے۔ اور فرمایا ’’ الرحمن(۱) علم القران ‘‘ (رحمن:۱ ۲) ترجمہ کنزالعرفان:رحمن نے۔ قرآن سکھایا۔ لہذا دنیا کا کوئی علم والا نبی علیہ السلام کے برابر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ لوگ دنیاوی استادوں کے شاگرد ہوتے ہیں اور نبی علیہ السلام رب العالمین عزوجل سے سیکھتے ہیں۔