Surah Yusuf Ayat 25 (12:25)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ-قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے دروازے کے پاس عورت کے شوہر کو پایا تو عورت کہنے لگی۔ اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے ؟ یہی کہ اسے قید کردیا جائے یا دردناک سزا (دی جائے)۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کرتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں دروازے کے پاس ملا بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار۔
Tafseer (Urdu)
{و استبقا الباب:اور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔}جب زلیخا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے درپے ہوئی اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب تعالی کی برہان دیکھی تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام دروازے کی طرف بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے کے لئے بھاگی۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا تالا کھل کر گرتا چلا جاتا تھا۔ آخر کار زلیخا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچی اور اس نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا کرتا پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا تاکہ آپ نکلنے نہ پائیں لیکن آپ غالب آئے اور دروازے سے باہر نکل گئے ۔ زلیخا کے قمیص کھینچنے کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قمیص پیچھے سے پھٹ گئی تھی۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام جیسے ہی باہر نکلے اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے زلیخا بھی نکلی تو انہوں نے زلیخا کے شوہر یعنی عزیز مصر کو دروازے کے پاس پایا فورا ہی زلیخا نے اپنی براء ت ظاہر کرنے اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے مکر سے خوفزدہ کرنے کے لئے حیلہ تراشا اور شوہر سے کہنے لگی: اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اتنا کہہ کر زلیخا کو اندیشہ ہوا کہ کہیں عزیز طیش میں آکر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے قتل کے درپے نہ ہوجائے اور یہ زلیخا کی شدت محبت کب گوارا کرسکتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا ’’یہی کہ اسے قید کردیا جائے یا دردناک سزا دی جائے یعنی اس کو کوڑے لگائے جائیں۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۵ ۳ / ۱۵ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۲۵ ص۵۲۶ ملتقطا)