Surah Yusuf Ayat 32 (12:32)
Joseph · Juz 12 · Makki
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِؕ-وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ-وَ لَىٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariزلیخا نے کہا: تو یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanزلیخا نے کہا تو یہ ہیں وہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{قالت:زلیخا نے کہا۔} عورتوں نے جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو وہ ان کے حسن و جمال میں گم ہو گئیں یہ دیکھ کر زلیخا نے ان سے کہا ’’یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میرا دیوانہ پن کچھ قابل تعجب اور ملامت نہیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور کسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے۔ اس پر مصری عورتوں نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے ۔ ان کی بات سن کرزلیخا بولی ’’ بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے اور چوروں قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے میرا دل مجھ سے چھین لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو اب انہیں بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسر نہ ہوگا جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں میرے ساتھ ریشم میں شاہانہ چارپائی پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دکھانا گوارا کریں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانے سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنائوں اور مرادوں کا اظہار کیا ۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہ الہی میں عرض کی۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۱۸ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۳۲ ص۵۲۸-۵۲۹ ملتقطا)