Surah Yusuf Ayat 48 (12:48)
Joseph · Juz 12 · Makki
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اس کے بعد سات برس سخت آئیں گے جو اس غلے کو کھا جائیں گے جو تم نے ان سالوں کے لیے پہلے جمع کر رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم بچالو گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اس کے بعد سات کرّے برس آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھاتھا مگر تھوڑا جو بچالو ۔
Tafseer (Urdu)
{ثم یاتی من بعد ذلك:پھر اس کے بعد آئیں گے۔} یعنی ان سات سرسبز سالوں کے بعد لوگوں پر سات سال سخت قحط کے ائیں گے جن کی طرف دبلی گائیوں اور سوکھی بالیوں میں اشارہ ہے جو غلہ وغیرہ تم نے ان سات سالوں کے لئے جمع کر رکھا ہو گا وہ سب ان سالوں میں کھا لیا جائے گا البتہ تھوڑا سا بچ جائے گا جو تم بیج کے لئے بچا لو گے تاکہ اس کے ذریعے کاشت کرو۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۴۸ ۳ / ۲۴ ملخصا) حفاظتی تدابیر کے طور پر کچھ بچا کر رکھنا تو کل کے خلاف نہیں : اس سے معلوم ہوا کہ حفاظتی تدابیر کے طور پر ائندہ کے لئے کچھ بچا کر رکھنا تو کل کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اناج اور دیگر ضروریات کے حوالے سے ملکی ذخائرکا جائزہ لیتے رہیں اور اس کے مطابق حکمت عملی ترتیب دیں بلکہ زر مبادلہ کے جو ذخائر جمع کر کے رکھے جاتے ہیں ان کی اصل بھی اس ایت سے نکالی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کا ان لوگوں کے لئے کچھ بچا کر رکھنا جن کا نان نفقہ اس کے ذمے ہے یہ بھی توکل کے خلاف نہیں۔جیسا کہ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’جہاں تک عیال دار کا تعلق ہے تو بال بچوں کے لئے ایک سال کا خرچ جمع کرنے سے توکل کی تعریف سے نہیں نکلتا۔ (احیاءعلوم الدین کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار ۴ / ۳۴۳) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’عیال کی کفایت (کفالت)شرع نے اس پر فرض کی وہ ان کو توکل و تبتل و صبر علی الفاقہ پر مجبور نہیں کرسکتا اپنی جان کو جتنا چاہے کسے مگر ان کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم فرماتے ہیں ’’کفی بالمر ء اثما ان یضیع من یقوت‘‘ ادمی کے گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس کا قوت (یعنی نفقہ ) اس کے ذمہ ہے اسے ضائع چھوڑ دے( ابوداود کتاب الزکاۃ باب فی صلۃ الرحم ۲ / ۱۸۴ الحدیث: ۱۶۹۲)(ت)۔(فتاوی رضویہ ۱۰ / ۳۲۳) اسی مقام پر اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ذکر کردہ مزید کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور پر نور سید المتوکلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے نفس کریم کے لیے کل کا کھانا بچا کر رکھنا پسند نہ فرماتے۔ ایک بار خادمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پرندے کا بچا ہوا گوشت دوسرے دن حاضر کیا تو ارشاد فرمایا ’’الم انہک ان ترفعی شیئا لغد ان اللہ یاتی برزق کل غد‘‘ کیا ہم نے منع نہ فرمایا کہ کل کے لیے کچھ ا ٹھاکرنہ رکھنا کل کی روزی اللہ عزوجل کل دے گا۔(مسند ابو یعلی مسند انس بن مالک ما اسندہ نجیح ابو علی عن انس ۳ / ۴۳۳ الحدیث: ۴۲۰۸) اور اپنے اہل و عیال کے معاملے میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا طرز عمل یہ تھا کہ اپ ان کے لئے سال بھر کاغلہ جمع فرما دیتے تھے چنانچہ امیر المومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ بنو نضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر لوٹادئیے تھے مسلمانوں نے انہیں حاصل کرنے کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ یہ اموال خاص طور پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تصرف میں تھے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان اموال سے ایک سال کا خرچ نکال لیتے اور جو مال باقی بچتا اسے جہاد کی سواریوں اور ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کرتے تھے۔ (مسلم کتاب الجہاد والسیر باب حکم الفیئ ص۹۶۴ الحدیث: ۴۸(۱۷۵۷)) امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جواپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچ جمع کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپ کا دل یا اپ کے اہل خانہ کے دل کمزور تھے بلکہ ( اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ کام) امت کے کمزور لوگوں کے لئے سنت بنانے کی خاطر ایسا کیا اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس بات کی خبر دی کہ اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جس طرح عزیمت (یعنی اصل حکم) پر عمل کیا جاتا ہے اسی طرح کمزور لوگوں کی دلجوئی کے لئے رخصت پر بھی عمل کیا جائے تاکہ ان کی کمزوری ان کو مایوسی تک نہ لے جائے اور وہ انتہائی درجہ تک پہنچنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے اسان نیکی بھی چھوڑ دیں۔ (احیاء علوم الدین کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار ۴ / ۳۴۳-۳۴۴) {ثم یاتی من بعد ذلك عام:پھر ان کے بعد ایک سال آئے گا۔} یعنی سخت قحط والے سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا ائے گا جس میں لوگوں کو بارش دی جائے گی اس میں لوگ انگوروں کا رس نچوڑیں گے اور تل اور زیتون کا تیل نکالیں گے۔ مراد یہ ہے کہ یہ سال بڑی برکت والا ہوگا زمین سرسبز وشاداب ہوگی اور درخت خوب پھلیں گے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۴۹ ۳ / ۲۴)