Surah Yusuf Ayat 50 (12:50)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ-فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِـعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْــٴَـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب ان کے پاس قاصد آیا تو یوسف نے فرمایا: اپنے بادشاہ کی طرف لوٹ جاؤ پھر اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔ بیشک میرا رب ان کے مکر کو جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و قال الملك:اور بادشاہ نے حکم دیا۔} ساقی جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ تعبیرسن کر واپس ہوا اور بادشاہ کی خدمت میں جا کر تعبیر بیان کی بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے یقین ہوا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ضرور ویسا ہی ہوگا۔ بادشاہ کو شوق پیدا ہوا کہ اس خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے سنے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں ان کی زیارت کروں کیونکہ انہوں نے خواب کی اتنی اچھی تعبیر بیان کی ہے۔ جب قاصد حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بادشاہ کا پیام عرض کیا تو آپ نے فرمایا ’’اپنے بادشاہ کی طرف لوٹ جاو پھر اس سے درخواست کرو کہ وہ تفتیش کرے کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔ بیشک میرا رب عزوجل ان کے مکر کو جانتا ہے۔ یہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے فرمایا تاکہ بادشاہ کے سامنے آپ کی براء ت اور بے گناہی ظاہر ہوجائے اور اس کو یہ معلوم ہو کہ یہ لمبی قید بلا وجہ ہوئی تاکہ آئندہ حاسدوں کو الزام لگانے کا موقع نہ ملے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تہمت دور کرنے میں کوشش کرنا ضروری ہے۔(خازن یوسف تحت الایۃ: ۵۰ ۳ / ۲۴ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۵۰ ص۵۳۳ ملتقطا)