Surah Yusuf Ayat 52 (12:52)
Joseph · Juz 12 · Makki
ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك:یہ۔} بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالی مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۵۱ ۳ / ۲۵) اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو انچ نہیں اتی مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ اخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابل تعریف وصف ہے: اس سے یہ بھی معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداریایک قابل تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے انکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’یعلم خآىنة الاعین و ما تخفی الصدور‘‘ (مومن:۱۹) ترجمہ کنزالعرفان : اللہ انکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماوں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہل خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے (مسلم کتاب الامارۃ باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہن ص۱۰۵۱ الحدیث: ۱۳۹(۱۸۹۷)) حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب کتاب البیوع وغیرہ ترہیب العبد من الاباق من سیدہ ۳ / ۱۸ الحدیث: ۴) اور اخلاقی خیانت سے بچنے والوں کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی اس دن اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے (عرش کے) سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (ان میں ایک) وہ شخص ہے جسے کسی منصب وجمال والی عورت نے (اپنے ساتھ برائی کرنے کے لئے) طلب کیا تو اس نے کہا کہ میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری کتاب الاذان باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔۔ الخ ۱ / ۲۳۶ الحدیث: ۶۶۰) اللہ تعالی ہمیں اخلاقی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائےامین۔