Surah Yusuf Ayat 78 (12:78)
Joseph · Juz 13 · Makki
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ 78
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے کہا: اے عزیز! بیشک اس کے بہت بوڑھے والد ہیں تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کولے لیں، بیشک ہم آپ کواحسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو بے شک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا:انہوں نے کہا۔} حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت میں اگرچہ چور کی سزا یہ تھی کہ اسے غلام بنا لیا جائے لیکن فدیہ لے کر معاف کر دینا بھی جائز تھا اس لئے بھائیوں نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں بہت بڑے ہیں وہ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ اپ ہم میں سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں بیشک ہم اپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں کہ اپ نے ہمیں عزت دی کثیر مال ہمیں عطا کیا ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں لوٹا دی۔(تفسیرکبیر یوسف تحت الایۃ: ۷۸ ۶ / ۴۹۱ جلالین یوسف تحت الایۃ: ۷۸ ص۱۹۶ ملتقطا) {قال:فرمایا۔} حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ’’اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا ہے اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں تو یہ تمہارے دین میں ظلم ہے لہذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں کرتے ہو جس کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے ۔ (مدارک یوسف تحت الایۃ: ۷۹ ص۵۴۰)