Surah Ar Rad Ayat 19 (13:19)
The Thunder · Juz 13 · Madani
اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو اندھا ہے؟صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا وہ جو جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے۔
Tafseer (Urdu)
{افمن یعلم:تو کیا وہ جو جانتا ہے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ادمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اللہ تعالی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور وہ اس پر ایمان لاتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جودل کا اندھا ہے جوحق کو جانتا ہے نہ قرآن پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ایک قول یہ ہے کہ یہ ایت حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔(خازن الرعد تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۶۲) علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ان ایات میں اگرچہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اچھی صفات پر ان کی تعریف کی گئی اور ان صفات کے بدلے بھلائی کا وعدہ فرمایا گیا اور ابو جہل کی بری صفات کی مذمت کی گئی اور ان بری صفات کے بدلے برے انجام کی وعید سنائی گئی لیکن چونکہ اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب نزول کی خصوصیت کا لہذاحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے وعدے کی ایات میں قیامت تک انے والے وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نقش قدم پر چلیں گے اور ان جیسی صفات اپنائیں گے یونہی ابو جہل کے لئے وعید کی ایات میں قیامت تک انے والے وہ تمام افراد داخل ہیں جو ابو جہل کے نقش قدم پر چلیں گے۔(صاوی الرعد تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۱۰۰۰) {انما یتذكر اولوا الالباب:صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔} یعنی قران کی نصیحتیں وہی قبول کرتے ہیں اور ان نصیحتوں پر وہی عمل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں اور ان کی عقل وہم کے عارضے سے صاف ہے۔ (روح البیان الرعد تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۳۶۳) {الذین یوفون بعهد الله:وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں ۔} یعنی اخرت کا اچھا انجام انہیں کے لئے ہے جو اللہ تعالی سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔ اللہ تعالی سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں کو توڑتے نہیں جو انہوں نے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے ہیں ۔(روح البیان الرعد تحت الایۃ: ۲۰ ۴ / ۳۶۳)