Surah Ibrahim Ayat 18 (14:18)
Abraham · Juz 13 · Makki
مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن میں تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں میں سے کسی شے پر بھی قادر نہ رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا یہی ہے دور کی گمراہی۔
Tafseer (Urdu)
{مثل الذین كفروا بربهم اعمالهم:اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال کا حال۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اخرت میں کفار کے مختلف عذابات کا ذکر فرمایا اور اس ایت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کے تمام اعمال ضائع ہو گئے اور وہ اخرت میں کوئی نفع حاصل نہ کر سکیں گے اور ا س وقت ان کا نقصان مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا کیونکہ دنیا میں ا نہوں نے اپنے گمان میں جو بھی نیک اعمال کئے ہوں گے جیسے محتاجوں کی امداد کرناصلہ رحمی کرنا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا بھوکوں کو کھانا کھلانا مسافروں کی معاونت کرنا اور بیماروں کی خبر گیری کرنا وغیرہ وہ ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اخرت میں باطل ہو جائیں گے اور یہی مکمل نقصان ہے۔ اس ایت میں کفار کے اعمال کی جو مثال بیان کی گئی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح تیز اندھی راکھ کو اڑا کر لے جاتی ہے اور اس راکھ کے اجزاء اس طرح منتشر ہوجاتے ہیں کہ ا س کا کوئی اثر نشان اور خبر باقی نہیں رہتی اسی طرح کافروں کے تمام اعمال کو ان کے کفر نے باطل کر دیا اور ان اعمال کو اس طرح ضائع کر دیا کہ ان کی کوئی خبر اور نشان باقی نہ رہا۔ (تفسیرکبیر ابراہیم تحت الایۃ: ۱۸ ۷ / ۸۰-۸۱ ملخصا) کافر کے نیک اعمال اخرت میں اسے فائدہ نہ دیں گے:ـ اس ایت سے معلوم ہو اکہ اخرت میں وہی نیک اعمال فائدہ دیں گے جو ایمان لانے کے بعد کئے گئے ہوں گے اور جو نیک اعمال حالت کفر میں کئے گئے ہوں گے اور نیک اعمال کرنے والا حالت کفرمیں ہی مرا ہو گا تو اسے ان نیک اعمال کا اخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو گا جیساکہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’و قدمنا الى ما عملوا من عمل فجعلنه هبآء منثورا‘‘ (فرقان:۲۳) ترجمہ کنزالعرفان:اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر اتے ہیں ۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے اللہ تعالی اس پر ظلم نہیں کرے گا اسے اخرت میں بھی جزا دی جائے گی اور رہا کافر تو اس نے دنیا میں جو اللہ عزوجل کیلئے نیکیاں کی ہیں ان کا اجر اسے دنیا میں دے دیاجائے گا اور جب وہ اخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے۔ (مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب جزاء المومن بحسناتہ فی الدنیا والاخرۃ۔۔۔ الخ ص۱۵۰۸ الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸))