Surah Ibrahim Ayat 28 (14:28)
Abraham · Juz 13 · Makki
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارڈالا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔
Tafseer (Urdu)
{ الذین بدلوا نعمت الله كفرا:جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا۔} اس ایت سے اللہ تعالی نے کفار کے برے احوال کا ذکر فرمایا ہے ۔(تفسیرکبیر ابراہیم تحت الایۃ: ۲۸ ۷ / ۹۴) بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جن لوگوں نے اللہ عزوجل کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا ان سے مراد کفار مکہ ہیں اور وہ نعمت جس کی انہوں نے شکر گزاری نہ کی وہ اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں ۔ (بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل ۳ / ۱۱ الحدیث: ۳۹۷۷)ایت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دو عالم کے سردار محمدمصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وجود سے کفار قریش کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا ا س لئے ان پرلازم تھا کہ وہ اس نعمت جلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کی پیروی کرکے مزید کرم کے حق دار ہوتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے ناشکری کی اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے ہلاکت کے گھر میں پہنچا دیا۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۸۴)