Surah Ibrahim Ayat 35 (14:35)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَﭤ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قال ابرهیم:اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے میرے رب! عزوجل مکہ مکرمہ کو امن والا شہر بنا دے کہ قیامت کے قریب دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ شہر ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۸۶ ملخصا) مکہ مکرمہ ویران ہونے سے محفوظ ہے: حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ کو ویران ہونے سے محفوظ فرما دیا اور کوئی بھی اس مقدس شہر کو ویران کرنے پر قادر نہ ہوسکا اور اس شہر کو اللہ تعالی نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے نہ کسی پر ظلم کیا جائے نہ وہاں شکار مارا جائے اور نہ سبزہ کاٹا جائے۔ (جلالین ابراہیم تحت الایۃ: ۳۵ ص۲۰۹) {و اجنبنی و بنی ان نعبد الاصنام:اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔} یاد رہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ دعا کرنا بارگاہ الہی میں عاجزی اور محتاجی کے اظہار کے لئے ہے کہ باوجودیہ کہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دست احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۸۶ ملخصا)