Surah Ibrahim Ayat 42 (14:42)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (اے سننے والے!)ہرگز اللہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔ اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تحسبن الله غافلا: اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ سمجھنا ۔}اس ایت میں ہر مظلوم کے لئے تسلی اور ہر ظالم کے لئے وعید ہے نیز اس ایت میں ایک مشہور مقولے کی تائید بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ ایت کا معنی یہ ہے کہ اے سننے والے !تم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالی ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا اور نہ ہی ظالموں سے عذاب موخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللہ تعالی انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ (جلالین مع صاوی ابراہیم تحت الایۃ: ۴۲ ۳ / ۱۰۲۹-۱۰۳۰) ظالم کے لئے وعید: یاد رہے کہ ظالموں کا اخروی عذاب تو اپنی جگہ دنیا میں بھی اللہ تعالی ظالموں کی گرفت فرماتا ہے چنانچہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا۔پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی و كذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى و هی ظالمة-ان اخذه الیم شدید(ہود:۱۰۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔( بخاری کتاب التفسیر باب وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ۔۔۔ الخ ۳ / ۲۴۷ الحدیث: ۴۶۸۶)