Surah Al Hijr Ayat 30 (15:30)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرگئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے۔
Tafseer (Urdu)
{فسجد:تو سجدے میں گرگئے۔} یعنی جب حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق مکمل ہوئی اور اللہ تعالی نے ان میں روح ڈال دی تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب ایک ساتھ سجدے میں گرگئے۔ (ابوسعود الحجر تحت الایۃ: ۳۰ ۳ / ۲۲۴) فرشتوں نے کسے سجدہ کیا فرشتوں کے اس سجدے سے متعلق بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ سجدہ اللہ تعالی کے لئے تھا اور حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے (کہ سجدہ اللہ تعالی کے لئے کیا جاتا ہے اور منہ کعبہ شریف کی طرف ہوتا ہے) اور بعض علماء نے فرمایا کہ یہ سجدہ تعظیم و تکریم کے طور پر حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی تھا۔(رد المحتار کتاب الحظر والاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ۹ / ۶۳۲) علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس سے متعلق بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے کہ ’’یہ سجدہ درحقیقت اس نور کی تعظیم کے لئے تھا جو حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی مبارک پیشانی میں چمک رہا تھا اور وہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نور تھا۔ (روح البیان الحجر تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۴۶۲) { الا ابلیس:سوا ئے ابلیس کے۔} یعنی جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے سجدے میں گر گئے لیکن ابلیس نے ان سجدہ کرنے والے فرشتوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا اور حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ نہ کیا۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۳۱ ۳ / ۱۰۱-۱۰۲ ملخصا)