Surah Al Hijr Ayat 29 (15:29)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میں پھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معز ز روح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔
Tafseer (Urdu)
{و نفخت فیه من روحی: اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میں پھونک دوں ۔}اس ایت میں اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی روح کو اپنی طرف ان کی عزت و تکریم کے طور پر منسوب فرمایا جیسے کہا جاتا ہے: بیت اللہناقۃ اللہ عبداللہ۔(خازن الحجر تحت الایۃ: ۳۲۹ / ۱۰۱) نوٹ:روح سے متعلق کلام سورہ بنی اسرائیل کی ایت نمبر85میں مذکور ہے۔ {فقعوا له سجدین:تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کریں ۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا عبادت کا سجدہ نہیں تھا۔(خازن الحجر تحت الایۃ: ۲۹ ۳ / ۱۰۱) سجدہ تعظیمی کو جائز ثابت کرنے والوں کا رد: یاد رہے کہ یہ ایت اور اس سے اگلی ایت اس امت کے لوگوں کے لئے سجدہ تعظیمی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی چنانچہ جو لوگ سجدہ تعظیمی کو حضرت ادم اور حضرت یوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی شریعت کا حکم بتا کر اس کا جائز ہونا ثابت کرتے ہیں ان کا رد کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ سرے سے اس کا ادم یایوسف یا کسی نبی علیہم الصلوۃ والسلام کی شریعت ہونے ہی کاثبوت دے اور ہر گز نہ دے سکے گا ادم علیہ السلام کی افرنیش سے پہلے رب عزوجل نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا: ’’فاذا سویته و نفخت فیه من روحی فقعوا له سجدین‘‘’’جب میں اسے ٹھیک بنالوں اوراس میں اپنی طرف کی ر وح پھونک دوں اس وقت تم اس کے لیے سجدہ میں گرنا۔‘‘ تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتری۔ ملائکہ و بشر کے احکام جدا ہیں جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت من قبلنا نہیں۔ قصہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے اتنا ثابت کہ شریعت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام فعل ممنوع نہیں کرتے ممانعت نہ ہونا دونوں طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحت شرعیہ ہوگی کہ حکم شرعی ہے یا ان کی شریعت میں اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تک شرع منع نہ فرمائے مباح ہے یہ اباحت اصلیہ ہوگی کہ حکم شرعی نہیں بلکہ عدم حکم ہے۔ اور جب دونوں صورتیں محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعت یعقوبیہ میں اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت من قبلنا ہونا کب ثابت بحمدہ تعالی شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔(فتاوی رضویہ ۲۲ / ۵۲۰) نیز مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’فرشتوں کا یہ سجدہ ادم علیہ السلام کی شریعت کا حکم نہ تھا کیونکہ ابھی ادم علیہ السلام کی شریعت ائی ہی نہ تھی نیز احکام شرعیہ انسانوں کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ فرشتوں کے لئے نیز صرف ایک بار ہی فرشتوں نے یہ سجدہ کیا ہر دفعہ سجدہ نہ ہوا لہذا اس ایت سے سجدہ تعظیمی کے جواز پر دلیل پکڑنا جائز نہیں۔( نور العرفان الحجر تحت الایۃ: ۲۹ ص۴۱۹-۴۲۰) نوٹ:سجدہ تعظیمی کی حرمت سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا فتاوی رضویہ کی 22 ویں جلد میں موجود تحقیقی رسالہ ’’الزبدۃ الزکیہ فی تحریم سجود التحیہ‘‘ (غیر اللہ کیلئے سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے کا بیان) کا مطالعہ فرمائیں اس رسالے میں اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ نے قران کریم کی ایات 40 احادیث بیسیوں فقہی نصوص اور علماء واولیاء کے اجماع سے سجدہ تعظیمی حرام ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔