Surah Al Hijr Ayat 87 (15:87)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن(دیا)۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد اتینك سبعا من المثانی:اور بیشک ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں ۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کفار کی اذیتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس ایت میں اللہ تعالی نے ان عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے صرف اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطا فرمائیں کیونکہ انسان جب اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی کثیر نعمتوں کویاد کرتا ہے تو اس کے لئے اذیتیں پہنچانے والوں سے درگزر کرنا اور سختیوں پرصبر کرنا اسان ہو جاتا ہے۔ (تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۸۷ ۷ / ۱۵۸) سبع مثانی سے کیا مراد ہے اس ایت میں سات ایتوں سے مراد سورہ فاتحہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی اس حدیث میں ہے جوحضرت سعید بن معلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’الحمد لله رب العلمین(یعنی سورہ فاتحہ) ہی سبع مثانی اور قران عظیم (کے تمام علوم کی جامع) ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ الفاتحۃ باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب ۳ / ۱۶۳ الحدیث: ۴۴۷۴)اور سنن ترمذی کی اس حدیث میں ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ الحمد لله (یعنی سورہ فاتحہ) ام القران ام الکتاب اور سبع مثانی ہے۔ (ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الحجر ۵ / ۸۶ الحدیث: ۳۱۳۵) سورہ فاتحہ کو مثانی کہنے کی وجوہات: سورہ فاتحہ کو مثانی یعنی بار بار دہرائے جانے والی کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سورہ فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے ا س لئے اسے مثانی فرمایا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سورہ فاتحہ اللہ تعالی اور بندے کے درمیان تقسیم کی گئی ہے اس کے پہلے نصف میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا ہے اور دوسرے نصف میں دعا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی پہلی بار مکہ میں اور دوسری بار مدینہ میں اس لئے اسے مثانی یعنی بار بار نازل ہونے والی فرمایا گیا۔ (جلالین مع صاوی الحجر تحت الایۃ: ۸۷۳ / ۱۰۵۰-۱۰۵۱) شفا اور قوت حافظہ کا وظیفہ: علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’خواص القران میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب سورہ فاتحہ کو پاک برتن میں لکھا جائے اور پاک پانی سے اس لکھے ہوئے کو مٹایا جائے اور اس پانی سے مریض کا چہرہ دھویا جائے تو اللہ تعالی کے حکم سے اسے شفا مل جائے گی۔ اور جب سورہ فاتحہ کو شیشے کے برتن میں مشک سے لکھا جائے اور عرق گلاب سے اس لکھے ہوئے کو مٹایا جائے اور وہ پانی ایسے کند ذہن کو سات دن تک پلایا جائے جسے کچھ یاد نہ رہتا ہو تو اس کی کند ذہنی ختم ہو جائے گی اور جو سنے گا وہ اسے یاد ہو جائے گا۔ (روح البیان الحجر تحت الایۃ: ۸۷۴ / ۴۸۸)