Surah An Nahl Ayat 101 (16:101)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍۙ-وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُـوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ اتارتا ہے تو کافر کہتے ہیں : تم خود گھڑ لیتے ہو بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا بدلنا ایة مكان ایة:اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں ۔}شان نزول: مشرکین مکہ اپنی جہالت کی وجہ سے ایتیں منسوخ ہونے پر اعتراض کرتے تھے اور اس کی حکمتوں سے ناواقف ہونے کے باعث اس چیز کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) ایک روز ایک حکم دیتے ہیں اور دوسرے روزدوسرا حکم دیدیتے ہیں ۔ وہ اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اپنی حکمت سے ایک حکم کو منسوخ کرکے دوسرا حکم دیتے ہیں تو اس میں (کوئی نہ کوئی) حکمت ہوتی ہے اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے جو وہ اتارتا ہے کہ اس میں کیا حکمت اور اس کے بندوں کے لئے اس میں کیا مصلحت ہے لیکن کافر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہتے ہیں : تم خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کافروں کی اکثریت جاہل ہے اور وہ نسخ اور تبدیلی کی حکمت و فوائد سے خبردار نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآن کریم کی طرف افتراء کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ جس کلام کی مثل بنانا انسان کی طاقت سے باہر ہے تو وہ کسی انسان کا بنایا ہوا کیسے ہوسکتا ہے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۰۱ ۳ / ۱۴۳ روح البیان النحل تحت الایۃ: ۱۰۱ ۵ / ۸۱ خزائن العرفان النحل تحت الایۃ: ۱۰۱ ص۵۱۸-۵۱۹ ملتقطا)