Surah An Nahl Ayat 112 (16:112)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ 112
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جوامن و اطمینان والی تھی ہر طرف سے اس کے پاس اس کا رزق کثرت سے آتاتھا تو وہاں کے رہنے والے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگے تو اللہ نے ان کے اعمال کے بدلے میں انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا ۔
Tafseer (Urdu)
{و ضرب الله مثلا قریة:اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی۔}اس ایت میں جس بستی کی مثال بیان فرمائی گئی ممکن ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے سابقہ امتوں کی کوئی بستی مراد ہو جس کا حال اس ایت میں بیان کیا گیا ہو اکثر مفسرین کے نزدیک اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ یہ کلام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مقاتل اور بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ ایت مدنی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس بستی کی 6 صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ تمام صفات اہل مکہ میں موجود تھیں تو اللہ تعالی نے ان کی مثال اہل مدینہ کے سامنے بیان فرمائی تاکہ وہ انہیں ڈرائے کہ اگر انہوں نے مکہ والوں جیسے کام کئے تو جو بھوک اور خوف انہیں پہنچا وہ انہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱۲ ۳ / ۱۴۷) اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بستی جیسے کہ مکہ کے رہنے والے جوامن و اطمینان سے تھے ان پر لٹیرے اور ڈاکو چڑھائی کرتے نہ وہ قتل اور قید کی مصیبت میں گرفتار کئے جاتے ہر طرف سے ان کے پاس ان کا رزق کثرت سے آتا تھا تو وہ لوگ نافرمانیاں کرکے اللہ عزوجل کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگے اور ا نہوں نے اللہ عزوجل کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کی تو اللہ عزوجل نے ان کے اعمال کے بدلے میں انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا کہ سات برس تک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی دعائے ضرر کی وجہ سے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار رہے یہاں تک کہ مردار کھاتے تھے پھر امن وا طمینان کی بجائے خوف و ہراس ان پر مسلط ہوا اور ہر وقت مسلمانوں کے حملے اور لشکر کشی کا اندیشہ رہنے لگا یہ ان کے اعمال کا بدلا تھا۔( ابوسعود النحل تحت الایۃ: ۱۱۲ ۳ / ۲۹۷ خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱۲ ۳ / ۱۴۶-۱۴۷ ملتقطا)