Surah An Nahl Ayat 114 (16:114)
The Bee · Juz 14 · Makki
فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ 114
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اللہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{فكلوا:تو کھاو!} جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم لوٹ غصب اور خبیث پیشوں سے حاصل کئے ہوئے جوحرام اور خبیث مال کھایا کرتے تھے ان کی بجائے حلال اور پاکیزہ رزق کھاو اور اللہ عزوجل کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱۴ ۳ / ۱۴۸ مدارک النحل تحت الایۃ: ۱۱۴ ص۶۱۲ ملتقطا) { انما حرم علیكم:تم پر تو یہی حرام کیا ہے۔}ایت کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالی نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا بیان اس ایت میں ہوا نہ کہ بحیرہ سائبہ وغیرہ جانور جنہیں کفار اپنے گمان کے مطابق حرام سمجھتے تھے۔ نیز جو شخص ایت میں مذکور حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے تووہ ضرورت کے مطابق ان میں سے کھا سکتا ہے۔( ابو سعود النحل تحت الایۃ: ۱۱۵ ۳ / ۲۹۹ ملخصا) نوٹ:اس ایت کی تفصیلی تفسیر سورہ بقرہ ایت نمبر 173 سورہ مائدہ ایت نمبر 3 اور سورہ انعام ایت نمبر 145 میں گزر چکی ہے۔ دین اسلام کی خصوصیت: اس ایت سے معلوم ہوا کہ دین اسلام انتہائی پاکیزہ دین ہے اور اس دین کو اللہ تعالی نے ہر گندی اور خبیث چیز سے پاک فرمایا ہے اور اس دین میں مسلمانوں کو طہارت و پاکیزگی کی اعلی تعلیمات دی گئی ہیں ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :بے شک اسلام پاکیزہ دین ہے اللہ تعالی نے اسے ہر بری چیز سے پاک فرمایا ہے اور اے انسان! اللہ تعالی نے تیرے لئے اس دین میں وسعت بھی رکھی ہے ( کہ) جب تو اس ایت میں بیان کی گئی چیزوں میں سے کسی چیز کو کھانے پر مجبور ہو جائے( تو اسے ضرورت کے مطابق کھا سکتا ہے)( در منثور النحل تحت الایۃ: ۱۱۵ ۵ / ۱۷۴)