Surah An Nahl Ayat 126 (16:126)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ 126
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کوصبر سب سے اچھا۔
Tafseer (Urdu)
{و ان عاقبتم:اور اگر تم سزا دینے لگو۔} یعنی اگر تم کسی کوسزا دینے لگو تو وہ سزا جرم کے حساب سے ہو اس سے زیادہ نہ ہو اور اگر تم صبر کرو اور انتقام نہ لو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ شان نزول: جنگ احد میں کفار نے مسلمانوں کے شہداء کے چہروں کو زخمی کرکے ان کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا ان کے پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے تھے ان شہداء میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے گا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی توحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے۔( مدارک النحل تحت الایۃ: ۱۲۶ ص۶۱۴ جلالین النحل تحت الایۃ: ۱۲۶ ص۲۲۸ ملتقطا)