Surah An Nahl Ayat 127 (16:127)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ 127
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و اصبر:اور صبر کرو۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے راستے میں کفار کی طرف سے اپ کوجوا ذیتیں پہنچیں ان پر صبر فرمائیں اور اپ کا صبر کرنا اللہ تعالی ہی کی توفیق سے ہے اوراپ ان مشر کین کا غم نہ کھائیں جو اپ کو جھٹلاتے ہیں قران پاک کا انکار کرتے اور اپ کی نصیحتوں سے اعراض کرتے ہیں اور مشرکین اپ کی طرف جو جادو گر اور کاہن ہونے کی نسبت کرتے ہیں اور لوگوں کو دین اسلام سے دور کرنے کی جو سازشیں کرتے ہیں اپ اس سے دل تنگ نہ ہوں کیونکہ ہم اپ کے ناصر و مددگار ہیں ۔( تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۱۲۷ ۷ / ۶۶۶ جلالین النحل تحت الایۃ: ۱۲۷ ص۲۲۸ ملتقطا) {ان الله مع الذین:بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے۔}یعنی اے انسان ! اگر تو چاہتا ہے کہ میری مدد میرا فضل اور میری رحمت تیرے شامل حال ہو تو تو ان لوگوں میں سے ہوجا جو مجھ سے ڈرتے ہیں اور نیکیاں کرنے والے ہیں ۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۲۸ ۳ / ۱۵۳) حضرت ہرم بن حیان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی وصیت: سورہ نحل کی اخری تین ایات انتہائی شاندار احکام پر مشتمل ہیں لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان ایتوں میں بیان کئے گئے احکام پر عمل کو اپنی زندگی کا خاص وظیفہ بنا لے اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی نصیحت کرتا رہے تاکہ وہ بھی ان پر عمل کی کوشش میں مصروف ہو جائیں ہمارے بزرگان دین بھی اس کی وصیت فرمایا کرتے تھے چنانچہ منقول ہے کہ حضرت ہرم بن حیان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی وفات کا وقت قریب ایا تو ان سے عرض کی گئی: اپ کوئی وصیت کر دیں ۔ انہوں نے فرمایا: ’’وصیت تو مال کے بارے ہوتی ہے اور میرے پاس کوئی مال نہیں البتہ میں تمہیں سورہ نحل کی اخری ایتوں یعنی ’’ادع الى سبیل ربك‘‘ سے لے کر سورت کے اخر تک کی وصیت کرتا ہوں (کہ ان میں جو احکام بیان ہوئے ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو جاو۔)( روح البیان النحل تحت الایۃ: ۱۲۸ ۵ / ۱۰۱)