Surah An Nahl Ayat 15 (16:15)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس نے زمین میں لنگر ڈالے تاکہ زمین تمہیں لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور اس نے نہریں اور راستے بنائے تاکہ تم راستہ پالو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس نے زمین میں لنگر ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ۔
Tafseer (Urdu)
{و القى فی الارض رواسی:اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے۔} اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے زمین میں جو نعمتیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض کا ذکر اس ایت میں فرمایا۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زمین میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈالے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور اس نے زمین میں نہریں بنائیں اور راستے بنائے جن پر تم اپنے سفر کے دوران چلتے ہو اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہو تاکہ تم اپنی منزلوں تک راستہ پا لو اور بھٹک نہ جاو۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۱۵ ۷ / ۱۸۹ خازن النحل تحت الایۃ: ۱۵ ۳ / ۱۱۶ ملتقطا) {و علمت:اور کئی نشانیاں بنائیں ۔} یعنی اللہ تعالی نے راستوں کی پہچان کیلئے کئی نشانیاں بنائیں جیسے پہاڑ کہ دن میں لوگ ان کے ذریعے راستہ پاتے ہیں اور رات کے وقت لوگ خشکی اور تری میں ستاروں سے بھی راستہ پالیتے ہیں اورا س سے انہیں قبلہ کی پہچان ہوتی ہے۔ (جلالین النحل تحت الایۃ: ۱۶ ص۲۱۷ ملخصا)