Surah An Nahl Ayat 14 (16:14)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَاۚ-وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہی ہے جس نے سمندر تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے زیور نکالوجسے تم پہنتے ہو اور تم اس میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں اور اس لئے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اورتاکہ تم شکر ادا کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور اس میں سے گہنانکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو۔
Tafseer (Urdu)
{و هو الذی سخر البحر:اور وہی ہے جس نے سمندر تمہارے قابو میں دیدئیے۔} سمندر کی تسخیر کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو سمندر سے نفع اٹھانے کی قدرت عطا کر دی ہے وہ کشتیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے اس میں سفر کر سکتے ہیں غوطے لگا کر اس کی تہہ میں پہنچ سکتے ہیں اور اس میں سے شکار کر سکتے ہیں ۔ (بیضاوی النحل تحت الایۃ: ۱۴ ۳ / ۳۸۹ ملخصا) {لتاكلوا منه لحما طریا:تا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاو ۔} سمندر میں انسانوں کے لئے بے شمار فوائد ہیں ان میں سے تین فوائد اللہ تعالی نے اس ایت میں بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا فائدہ: تم اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو۔ اس سے مراد مچھلی ہے ۔یاد رہے کہ سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کا گوشت حلال ہے۔ دوسرا فائدہ: تم سمندرمیں سے زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔ زیور سے مراد گوہر و مرجان ہیں اور پہننے سے مراد عورتوں کا پہننا ہے کیونکہ زیور عورتوں کی زینت ہے اور چونکہ عورتوں کازیوروں کے ذریعے سجنا سنورنا مردوں کی وجہ سے ہوتا ہے ا س لئے گویا کہ یہ مردوں کی زینت اور لباس ہے۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۱۴ ۷ / ۱۸۸) تیسرا فائدہ: اور تم اس میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں ۔ یعنی اگر تم میں سے کوئی سمندر پر جائے تو وہ دیکھے گا کہ ہوا کا رخ ایک طرف ہونے کے باوجود (بادبانی) کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی ا جا رہی ہیں ۔ (روح البیان النحل تحت الایۃ: ۱۴ ۵ / ۱۹ ملخصا) {و لتبتغوا من فضله:تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔} یعنی سمندر کو تمہارے قابو میں اس لئے دیا تاکہ تم تجارت کی غرض سے سمندر میں سفر کرو اور اللہ تعالی کے فضل سے نفع حاصل کرو اور جب تم اللہ تعالی کا فضل اور احسان پاو تو تمہیں چاہئے کہ ا س پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرو۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۱۴ ۷ / ۱۸۹)