Surah An Nahl Ayat 2 (16:2)
The Bee · Juz 14 · Makki
یُنَزِّلُ الْمَلٰٓىٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتا ہے اس پر فرشتوں کو اپنے حکم سے روح یعنی وحی کے ساتھ نازل فرماتا ہے کہ تم ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھ سے ڈرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو۔
Tafseer (Urdu)
{ینزل الملىكة: اللہ فرشتوں کو نازل فرماتا ہے ۔} اس ایت میں ملائکہ سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں ان کی تعظیم کے لئے جمع کا صیغہ ’’ملائکہ ‘‘ ذکر فرمایا گیا اور روح سے مراد وحی ہے۔ وحی کو روح اس لئے فرمایا گیا کہ جس طرح روح کے ذریعے جسم زندہ ہوتا ہے اور روح نہ ہو تو جسم مردہ ہو جاتا ہے اسی طرح وحی کے ذریعے دل زندہ ہوتا ہے اور اسی سے ابدی سعادت کا پتا چلتا ہے اور جو دل وحی سے دور ہو وہ مردہ ہو جاتا ہے ۔(جلالین مع صاوی النحل تحت الایۃ: ۲ ۳ / ۱۰۵۶) بعض مفسرین کا قول ہے کہ ملائکہ سے حضرت جبریل علیہ السلام اور ان کے ساتھ انے والے وہ فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالی کے حکم سے وحی کی حفاظت پر مامور ہیں۔(ابوسعود النحل تحت الایۃ: ۲ ۳ / ۲۴۴)ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ’’اللہ عزوجل نے اپنے جن بندوں کو نبوت رسالت اور مخلوق کی طرف وحی کی تبلیغ کے لئے منتخب فرما لیا ہے ان پر وحی کے ساتھ فرشتوں کو نازل فرماتا ہے تا کہ وہ لوگوں کو میرا انکار کرنے اور عبادت کے لائق ہونے میں بتوں کو میرا شریک ٹھہرانے پر میرے قہر و غضب سے ڈرائیں ۔(خازن النحل تحت الایۃ: ۲ ۳ / ۱۱۲-۱۱۳ تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۲ ۷ / ۵۵۷-۵۵۸ ملتقطا)