Surah An Nahl Ayat 26 (16:26)
The Bee · Juz 14 · Makki
قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ان سے پہلے لوگوں نے مکرو فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی تعمیر کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا اور اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر بھی نہیں تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ان سے اگلوں نے فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی۔
Tafseer (Urdu)
{قد مكر الذین من قبلهم:بیشک ان سے پہلے لوگوں نے مکرو فریب کیا تھا۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اپنے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مکرو فریب کرتے تھے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں نے اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مکر کرنے کے لئے کچھ منصوبے بنائے تھے اللہ تعالی نے انہیں خود انہیں کے منصوبوں میں ہلاک کردیا اور ان کا حال ایسا ہوا جیسے کسی قوم نے کوئی بلند عمارت بنائی پھر وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ ہلاک ہوگئے اسی طرح کفار اپنی مکاریوں سے خود برباد ہوئے ۔ مفسرین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اگلے مکر کرنے والوں سے نمرود بن کنعان مراد ہے یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں روئے زمین کا سب سے بڑا بادشاہ تھا اس نے بابل میں بہت اونچی ایک عمارت بنائی جس کی بلندی پانچ ہزار گز تھی اور اس کا مکریہ تھا کہ اس نے یہ بلند عمارت اپنے خیال میں آسما ن پر پہنچنے اور آسمان والوں سے لڑنے کے لئے بنائی تھی اور اللہ تعالی نے ہوا چلائی اور وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ (مدارک النحل تحت الایۃ: ۲۶ ص۵۹۳ خازن النحل تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۱۱۹ ملتقطا)