Surah An Nahl Ayat 27 (16:27)
The Bee · Juz 14 · Makki
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْؕ-قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارےمیں تم جھگڑتے تھے؟ علم والے کہیں گے: بیشک آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن میں تم جھگڑتے تھے علم والے کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم یوم القیمة یخزیهم:پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا ۔} اس میں اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ کفار پر صرف اس قدر ہی عذاب نہ ہو گا کہ ان پر صرف دنیا میں عذاب ہوجائے بلکہ اللہ تعالی قیامت کے دن بھی انہیں رسوا کرے گا اور انہیں سختی سے فرمائے گا ’’وہ کہاں ہیں جنہیں تم اپنے گمان میں میرا شریک سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں تم مومنوں سے جھگڑتے تھے۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۲۷ ۷ / ۱۹۹ ملخصا) {قال الذین اوتوا العلم:علم والے کہیں گے۔} کفار دنیا میں اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے جب قیامت کے دن اہل ایمان کو طرح طرح کی عظمتوں اور شرافتوں سے نوازا جائے گا اور کافروں کو رسوا ئی کے ساتھ مختلف قسم کے عذابوں میں گرفتار کیا جائے گا تو اس وقت ان امتوں کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور علماء جو انہیں دنیا میں ایمان کی دعوت دیتے اور نصیحت کرتے تھے اور یہ لوگ ان کی بات نہ مانتے تھے وہ حضرات ان کافروں سے کہیں گے’’ بیشک آج ساری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے۔(مدارک النحل تحت الایۃ: ۲۷ ص۵۹۴ خازن النحل تحت الایۃ: ۲۷ ۳ / ۱۱۹-۱۲۰ ملتقطا) اخرت میں بھی علماء کا درجہ اعلی ہو گا: اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء کا درجہ دنیا میں بھی اعلی ہے اور اخرت میں بھی اعلی ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالی نے ان ہی کا قول نقل فرمایا ہے۔