Surah An Nahl Ayat 28 (16:28)
The Bee · Juz 14 · Makki
الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ۪-فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍؕ-بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرشتے ان کافروں کی جان اس حال میں نکالتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ صلح کی بات پیش کرتے ہیں کہ ہم توکوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے۔ (فرشتے کہتے ہیں :) ہاں کیوں نہیں ، بیشک اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کہ وہ اپنا برا کررہے تھے اب صلح ڈالیں گے کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے ہاں کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{ الذین تتوفىهم الملىكة:وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ فرشتے جب کافروں کی جان نکالتے ہیں تو یہ کفر کی حالت یقینا ایسی ہوتی ہے کہ وہ حقیقت میں اپنی جانوں پر ظلم ہوتا ہے لیکن جب ان کی موت کا وقت قریب اتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی عبودیت کا اقرار کرتے اور اسلام قبول کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو کوئی شرک نہیں کیا کرتے تھے۔ فرشتے ان کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہاں کیوں نہیں ! بے شک اللہ تعالی تمہارے شرک اور تکذیب کو جانتا ہے۔ (روح البیان النحل تحت الایۃ: ۲۸ ۵ / ۲۸ تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۲۸ ۷ / ۲۰۰ ملتقطا) دوسری تفسیر یہ ہے کہ حالت کفر میں مرنے والے یہ لوگ جب قیامت کے دن عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو خوف کی شدت سے اپنے دنیوی طرز عمل کے برخلاف اسلام کی حقانیت تسلیم کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں کوئی شرک نہیں کیا کرتے تھےیوں وہ اپنے کفر و سرکشی سے مکر جائیں گے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور علماء ان کا رد کرتے ہوئے کہیں گے ’’ ہاں کیوں نہیں بیشک اللہ تعالی تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے وہ تمہیں ان کی سزا دے گا لہذا تمہارے انکار کا کوئی فائدہ نہیں۔(مدارک النحل تحت الایۃ: ۲۸ ص۵۹۴ ملخصا)