Surah An Nahl Ayat 44 (16:44)
The Bee · Juz 14 · Makki
بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَٜ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(ہم نے) روشن دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ (رسولوں کو بھیجا) اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کردو جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے اورتاکہ وہ غوروفکر کریں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanروشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔
Tafseer (Urdu)
{و انزلنا الیك الذكر:اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قران نازل فرمایا۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کی طرف یہ قران اس لئے نازل فرمایا تاکہ اپ اس کتاب میں موجود احکام وعدہ اور وعید کو اپنے اقوال اور افعال کے ذریعے لوگوں سے بیان کر دیں ۔ (قرطبی النحل تحت الایۃ: ۴۴ ۵ / ۷۹ الجزء العاشر) حدیث پاک بھی حجت ہے: ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنی تفسیر ’’الجامع لاحکام القران‘‘ کی ابتدا میں فرماتے ہیں ’’اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں موجود مجمل چیزوں کو بیان کرنے مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی احتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ اپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد قران پاک کے معانی کو اخذ کرنے اور قران پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قران پاک کے الفاظ میں غورو فکرکر کے ان کی مراد جان جائیں یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی خلاصہ یہ ہے کہ قران پاک اصل ہے اور حدیث پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا استنباط ا س کی وضاحت ہے۔(قرطبی خطبۃ المصنف ۱ / ۲۴ الجزء الاول)اس ایت کریمہ سے معلوم ہو اکہ قران پاک کی طرح حدیث پاک بھی معتبر قابل قبول اور لائق عمل ہے کیونکہ اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قران پاک میں موجود احکام وغیرہ کو اپنے اقوال اور افعال کے ذریعے لوگوں سے بیان کرنے کا منصب عطا فرمایا ہے اور حدیث نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال اور افعال ہی کا تو نام ہے ۔اس کے علاوہ اور ایات بھی حدیث پاک کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہیں جیسے ارشاد باری تعالی ہے ’’هو الذی بعث فی الامین رسولا منهم یتلوا علیهم ایته و یزكیهم و یعلمهم الكتب و الحكمة-و ان كانوا من قبل لفی ضلل مبین‘‘(سورہ جمعہ :۲) ترجمہ کنزالعرفان: وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔ اس ایت کے علاوہ بکثرت ایات ایسی ہیں جن میں اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حکم مانا جائے یہاں تک کہ واضح طور فرما دیا کہ’’ و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله‘‘(النساء:۶۴) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت اسی صورت ممکن ہے جب ان کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے اگر یوں نہ کیا جائے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد ہے وہی فوت ہو جائے گا۔ اور ارشاد فرمایا ’’و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا-و اتقوا الله-ان الله شدید العقاب‘‘(حشر:۷) ترجمہ کنزالعرفان: اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔ عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو حدیث پاک کو حجت مانے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ قران پاک میں اسلام کے بنیادی احکام جیسے نماز روزہ حج اور زکوۃ کا اجمالی بیان کیا گیا ہے ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب حدیث پاک پر عمل کیا جائے کیونکہ ان تمام احکام کی تفصیل کا بیان صرف احادیث میں ہے۔ {و لعلهم یتفكرون:اورتاکہ وہ غوروفکر کریں ۔} یعنی قران نازل کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی ایتوں میں غور و فکر کریں اور ان میں موجود حقائق اور عبرت انگیز چیزوں پر مطلع ہوں اور ان کاموں سے بچیں جن کی وجہ سے سابقہ امتیں عذاب میں مبتلا ہو گئیں ۔ (ابوسعود النحل تحت الایۃ: ۴۴ ۳ / ۲۶۸ ملخصا) قران کریم میں غورو فکر اعلی درجہ کی عبادت ہے: اس ایت سے یہ معلوم ہوا کہ قران کریم میں غورو فکر کرنا اعلی درجہ کی عبادت ہے لہذا قاری سے عالم باعمل افضل ہے۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ قران مجید کو سمجھ کر اور اس میں بیان کئے گئے احکام عبرت انگیز واقعاتموت کے وقت کی افات گناہگاروں اور کافروں پر ہونے والے جہنم کے عذابات اور نیک مسلمانوں کو ملنے والے جنت کے انعامات وغیرہ میں غورو فکر کرتے ہوئے ا س کی تلاوت کرے تاکہ اسے قران کریم کی برکتیں اچھی طرح حاصل ہوں اور اس کے دل پر اگر گناہوں کی سیاہی غالب ا چکی ہو تو وہ بھی صاف ہو جائے ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا: ان دلوں میں بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے میں پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کی جلا(یعنی صفائی) کس چیز سے ہوگی ارشاد فرمایا ’’کثرت سے موت کو یادکرنے اور تلاوت قرآن سے۔(شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی ادمان تلاوتہ ۲ / ۳۵۲ الحدیث: ۲۰۱۴) حضرت ابراہیم خواص رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :دل کی دوا پانچ چیزیں ہیں ۔ (1) غورو فکر کرتے ہوئے قران مجید کی تلاوت کرنا (2) بھوکا رہنا (3) رات میں نوافل ادا کرنا (4) سحری کے وقت اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرنا (5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا (روح البیان النحل تحت الایۃ: ۴۴ ۵ / ۳۸)