Surah An Nahl Ayat 45 (16:45)
The Bee · Juz 14 · Makki
اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا بری سازشیں کرنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا جو لوگ بُرے مکر کرتے ہیں اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{افامن:تو کیا بے خوف ہوگئے۔} اس ایت اورا س کے بعد والی دو ایات میں اللہ تعالی نے کفار مکہ کو چار طرح کے عذابوں سے ڈرایا ہے ۔ (1) زمین میں دھنسادیئے جانے سے۔ (2) اسمان سے عذاب نازل کر دینے سے۔ (3) ایسی افات سے جو یکبارگی ا س طرح ائیں کہ ان کی علامات اور دلائل انہیں معلوم نہ ہوں ۔ (4) ایسی افات سے جو تھوڑی تھوڑی ائیں یہاں تک کہ ان کا اخری فرد بھی ہلاک ہو جائے۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۴۵-۴۷ ۷ / ۲۱۲-۲۱۳)اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے خلاف سازشیں کرتے ہیں انہیں ایذائیں پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور چھپ چھپ کر فساد پھیلانے کی تدبیریں کرتے ہیں کیا وہ ا س بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ عزوجل انہیں زمین میں دھنسادے جیسے قارون کو دھنسادیا تھا یا ان پر اسمان سے اچانک عذاب نازل ہو جائے جیسے قوم لوط پر ہو اتھا۔( روح البیان النحل تحت الایۃ: ۴۵ ۵ / ۳۸ بیضاوی النحل تحت الایۃ: ۴۵ ۳ / ۴۰۰ ملتقطا) بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’من حیث لا یشعرون(جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو)‘‘ سے بدر کا دن مراد ہے کیونکہ کفار کے بڑے بڑے سردار اس دن ہلاک کر دئیے گئے اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی ہلاکت کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔(تفسیر قرطبی النحل تحت الایۃ: ۴۵ ۵ / ۷۹ الجزء العاشر)