Surah An Nahl Ayat 54 (16:54)
The Bee · Juz 14 · Makki
ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَ 54
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو اس وقت تم میں ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم اذا كشف الضر عنكم:پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے۔} یعنی پھر جب اللہ تعالی تمہاری بدنی بیماریاں دور کر کے تمہیں عافیت عطا کر دے تمہاری معاشی پریشانی ختم کر دے اور تم پر انے والی مصیبتیں ٹال دے تو تم میں سے ایک گروہ اپنی عبادت میں غیروں کواللہ تعالی کا شریک ٹھہرانے لگ جاتا ہے بتوں کی عبادت میں مشغول ہونے کے ساتھ بتوں کا شکر اداکرتے ہوئے ان کے نام پر جانور ذبح کرتا ہے اور اللہ عز وجل کا شکر ادا نہیں کرتا جس نے ان کی مشکلات دور کر کے انہیں اسانیاں عطا کی ۔(تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۵۴ ۷ / ۵۹۸) {لیكفروا بما اتینهم:تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔} امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت کا معنی یہ ہے کہ لوگوں نے مصیبت دور کرنے میں بتوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا اور شریک ٹھہرانے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے کا انکار کر دیں ۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے کہ جب ان کے مرض کی تکلیف بڑھتی ہے تو وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتے ہیں اور ا س تکلیف کے دور ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں اور جب اللہ تعالی ان کی تکلیف دور فرما دے تو وہ یوں کہنے لگتے ہیں کہ فلاں دوائی سے یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے میری یہ تکلیف دور ہوئی یونہی جب زلزلہ طوفان یا سیلاب وغیرہ کی مصیبت اتی ہے تو اس وقت بھی اللہ تعالی کے حضور التجائیں کرتے ہیں روتے اور گڑگڑاتے ہیں لیکن جب زلزلے طوفان یا سیلاب وغیرہ کا سلسلہ ختم ہو جائے تو دوبارہ انہی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں جن میں پہلے سے مصروف تھے۔ لوگوں کی اسی حالت کی وضاحت اللہ تعالی نے ان ایات میں فرمائی ہے۔ (تفسیر کبیر النحل تحت الایۃ: ۵۵ ۷ / ۲۲۲-۲۲۳ ملخصا) اگرچہ طبیب یا دوا کی طرف شفا کی نسبت کرنا گناہ نہیں لیکن صرف انہی پر بھروسہ رکھنا اور شفا و صحت کو اللہ تعالی کی نعمت شمار کرنے اور اس پر شکر ادا کرنے کا اصلا نہ سوچنا ضرور غلط ہے۔ مصائب و الام کے وقت لوگوں کا حال اور بعد کی صورت حال: امام رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے کلام کو سامنے رکھتے ہوئے فی زمانہ بھی اگر لوگوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو شاید لاکھوں میں ایک انسان بھی ایسانظر نہ ائے جو بیماری تکلیف اور پریشانی کی حالت میںاللہ تعالی سے دعائیں نہ مانگتا ہو دوسروں کو دعاوں کے لئے نہ کہتا ہو اور اللہ تعالی کے نیک بندوں سے اپنی مشکلات کے حل کے لئے دعائیں نہ کرواتا ہو یونہی ایسی حالت میں اپنے گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ نہ کرتا ہو اور ائندہ کے لئے تمام گناہوں سے کنارہ کش ہونے کے ارادے نہ کرتاہو لیکن جب یہ مصائب و الام ختم ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالی کا شکر اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے اپنی گناہوں کی سابقہ سڑک پر پہلے سے بھی تیز دوڑنا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح ہمارے مشاہدے میں ہے کہ بہت مرتبہ زلزلے طوفان اور سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا حال یہ ہوا کہ وہ بارگاہ الہی میں گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنی عافیت و سلامتی کی دعائیں مانگنے میں مصروف ہو گئے اور وقتی طور پر نمازروزہ اور ذکر و درو د میں مشغول ہو گئے لیکن یہ افات ختم ہو جانے کے بعد اب ان کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ {فتمتعوا:تو فائدہ اٹھالو۔} اس ایت میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جن کے اوصاف مذکورہ بالا ایات میں بیان ہوئے اللہ تعالی ان سے ارشاد فرماتا ہے کہ تم اس دنیا کی زندگی میں اپنی مدت پوری ہونے تک فائدہ اٹھا لو اور جب تم اپنی زندگی کا وقت پورا کر کے اپنے رب عزوجل سے ملو گے تو اس وقت اپنے کئے ہوئے اعمال کا وبال جان جاو گے اور اپنے برے کاموں کا انجام دیکھ لو گے۔اس وقت تمہیں ندامت تو بہت ہو گی لیکن وہ ندامت تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ (تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۵۵ ۷ / ۵۹۸)