Surah An Nahl Ayat 70 (16:70)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ ﳜ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھروہ تمہاری جان قبض کرے گااور تم میں کوئی سب سے گھٹیا عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بیشک اللہ جاننے والا ، بہت قدرت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری جان قبض کرے گا اور تم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے بیشک اللہ سب کچھ جانتا سب کچھ کرسکتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الله خلقكم:اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے حیوانات کے عجیب و غریب افعال ذکر فرما کر اپنے خالق اور قادر ہونے کی دلیل بیان فرمائی اور اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے وہ آثار ظاہر فرمائے جو خود لوگوں میں اور ان کے احوال میں نمایاں ہیں ۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں وجود بخشا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے کیسی عجیب قدرت ہے پھر وہ اس وقت تمہاری جان قبض کرے گا اور تمہیں زندگی کے بعد موت دے گا جب تمہاری وہ مدت پوری ہو جائے جو اس نے مقرر فرمائی ہے چاہے بچپن میں پوری ہو یا جوانی میں یا بڑھاپے میں اور تم میں کوئی سب سے گھٹیا عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے جس کا زمانہ انسانی عمر کے مراتب میں ساٹھ سال کے بعد اتا ہے کیونکہ اس وقت اعضا اور حواس سب ناکارہ ہونے کے قریب ہوتے ہیں اور انسان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور نادانی میں بچوں سے زیادہ بدتر ہوجائے ۔ ان تغیرات میں قدرت الہی کے کیسے عجائبات مشاہدے میں آتے ہیں ۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن پاک پڑھا وہ اس ارذل عمر کی حالت کو نہ پہنچے گا کہ علم کے بعد محض بے علم ہوجائے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۷۰ ۳ / ۱۳۳ ملخصا) نکمے پن کی عمر سے پناہ مانگنے کی دعا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے ’’اعوذ بک من البخل والکسل وارذل العمر وعذاب القبر وفتنۃ الدجال وفتنۃ المحیا والممات‘‘ یعنی( اے اللہ!)میں بخل سے سستی سےنکمے پن کی عمر سے قبر کے عذاب سے دجال کے فتنے سے زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ النحل باب ومنکم من یرد الی ارذل العمر ۳ / ۲۵۷ الحدیث: ۴۷۰۷) اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے ہمیں بھی ان تمام چیزوں سے محفوظ فرمائےامین۔