Surah An Nahl Ayat 77 (16:77)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 77
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے اور قیامت کا معاملہ صرف ایک پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے ۔بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لله غیب السموت و الارض:اورآسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم اللہ ہی کے لیے ہے۔} اس ایت میں اللہ تعالی کے علم اور قدرت کے کمال کا بیان ہے ۔علم کے کمال کا بیان ایت کے اس حصے میں ہے’’و لله غیب السموت و الارض‘‘ یعنی اللہ تعالی ہی تمام غیبوں کا جاننے والا ہے اور اس پر کوئی چیزپوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد قیامت کا علم ہے ۔ قدرت کے کمال کابیان ایت کے اس حصے میں ہے ’’ و ما امر الساعة الا كلمح البصر او هو اقرب‘‘یعنی قیامت قائم کرنے کا معاملہ اللہ عزوجل کی قدرت میں صرف ایک پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے کیونکہ پلک مارنا بھی زمانہ چاہتا ہے جس میں پلک کی حرکت حاصل ہو اور اللہ تعالی جس چیز کا ہونا چاہے وہ کن فرماتے ہی ہوجاتی ہے۔( تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۷۷ ۷ / ۲۴۹-۲۵۰ خازن النحل تحت الایۃ: ۷۷ ۳ / ۱۳۶ ملتقطا)